Skip to main content

القِسْمُ الْأَوَّلُ، الْمَقَالَةُ الْأُولَى

 القِسْمُ الْأَوَّلُ فِي ضَوَابِطِ الْفِكْرِ

وَفِيهِ ثَلَاثُ مَقَالَاتٍ

الْمَقَالَةُ الْأُولَى

فِي الْمَعَارِفِ وَالتَّعْرِيفِ

وَفِيهَا ضَوَابِطُ سَبْعَةٌ۔


شیخ الرئیس ابوعلی حسین ابنِ سینا ۹۸۰ء تا ۱۰۳۷ء

الضَّابِطُ الْأَوَّلُ [فِي الدَّلَالَةِ اللَّفْظِ عَلَى الْمَعْنَى]

٧. هُوَ أَنَّ اللَّفْظَ؛ دَلَالَتُهُ عَلَى الْمَعْنىٰ الَّذِي وُضِعَ بِإِزَائِهِ هِيَ دَلَالَةُ الْقَصْدِ۔ وَعَلَى جُزْءِ الْمَعْنَى دَلَالَةُ الْحِيطَةِ۔ وَعَلَى لَازِمِ الْمَعْنىٰ دَلَالَةُ التَّطَفُّلِ۔ وَلَا تَخْلُو دَلَالَةُ قَصْدٍ عَنْ مُتَابَعَةِ دَلَالَةِ تَطَفُّلٍ، إِذْ لَيْسَ فِي الْوُجُودِ مَا لَا لَازِمَ لَهُ۔ وَلَكِنَّهَا قَدْ تَخْلُو عَنْ دَلَالَةِ الْحِيطَةِ؛ إِذْ مِنَ الْأَشْيَاءِ مَا لَا جُزْءَ لَهُ، وَالْعَامُّ لَا يَدُلُّ عَلَى الْخَاصِّ بِخُصُوصِهِ. فَمَنْ قَالَ؛ «رَأَيْتُ حَيَوَانًا» فَلَهُ أَنْ يَقُولَ؛ «مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا»۔ وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَقُولَ؛ «مَا رَأَيْتُ جِسْمًا» وَ«مُتَحَرِّكًا بِالْإِرَادَةٍ» مَثَلًا۔

پہلا حصہ؛ فکر کے ضابطوں کے بارے میں، اور اس میں تین مقالے ہیں

پہلا مقالہ

معرفتوں اور تعریف کے بارے میں۔

اور اس میں سات ضابطے ہیں۔

(۱)پہلا ضابطہ؛ [لفظ کی معنیٰ پر دلالت کے بارے میں]

 وہ یہ ہے کہ: لفظ کی اس معنیٰ پر دلالت جس کے لیے وہ وضع کیا گیا ہے، دلالتِ قصَد کہلاتی ہے۔ اور معنیٰ کے کسی حصے پر دلالت دلالتِ حِیطہ (احتیاطی دلالت) کہلاتی ہے۔ اور معنیٰ کے لازم (ضروری طور پر اس کے ساتھ آنے والی چیز) پر دلالت دلالتِ تطفُّل (اضافی یا ضمنی دلالت) کہلاتی ہے اور کوئی دلالتِ قصد، دلالتِ تطفُّل کی پیروی سے خالی نہیں ہوتی، کیونکہ موجودات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا کوئی لازم نہ ہو۔ لیکن یہ (دلالتِ قصد) دلالتِ حیطہ سے خالی ہو سکتی ہے؛ کیونکہ بعض چیزوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور عام لفظ خاص چیز پر اس کی خصوصیت کے ساتھ دلالت نہیں کرتا۔ لہٰذا جو شخص کہے: "میں نے ایک حیوان دیکھا"، تو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ: "میں نے انسان نہیں دیکھا"۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ: "میں نے جسم نہیں دیکھا" یا مثال کے طور پر "میں نے ارادی حرکت کرنے والی چیز نہیں دیکھی"۔ (۲)

الضَّابِطُ الثَّانِيُّ [فِي مُقَسِّمِ التَّصَوُّرُ وٱلتَّصْدِیْقُ]

٨. هُوَ أَنَّ الشَّيْءَ الْغَائِبَ عَنْكَ إِذَا أَدْرَكْتَهُ، فَإِنَّمَا إِدْرَاكُهُ عَلَى مَا يَلِيقُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ هُوَ بِحُصُولِ مِثَالِ حَقِيقَتِهِ فِيكَ۔ فَإِنَّ الشَّيْءَ الْغَائِبَ ذَاتَهُ إِذَا عَلِمْتَهُ، إِنْ لَمْ يَحْصُلْ مِنْهُ أَثَرٌ فِيكَ، فَاسْتَوَتْ حَالَتَا مَا قَبْلَ الْعِلْمِ وَمَا بَعْدَهُ؛ وَإِنْ حَصَلَ مِنْهُ أَثَرٌ فِيكَ وَلَمْ يُطَابِقْ، فَمَا عَلِمْتَهُ كَمَا هُوَ، فَلَا بُدَّ مِنَ الْمُطَابَقَةِ مِنْ جِهَةِ مَا عَلِمْتَ۔ فَالْآثَرُ الَّذِي فِيكَ مِثَالُهُ۔ وَالْمَعْنَى الصَّالِحُ نَفْسُهُ لِمُطَابَقَةِ الْكَثِيرِينَ، اصْطَلَحْنَا عَلَيْهِ بِـ «الْمَعْنَى الْعَامِّ»، وَاللَّفْظُ الدَّالُّ عَلَيْهِ هُوَ «اللَّفْظُ الْعَامُّ» كَلَفْظِ الْإِنْسَانِ وَمَعْنَاهُ۔ وَالْمَفْهُومُ مِنَ اللَّفْظِ إِذَا لَمْ يَتَصَوَّرْ فِيهِ الشَّرِكَةُ لِنَفْسِهِ أَصْلًا، هُوَ «الْمَعْنَى الشَّاخِصُ»، وَاللَّفْظُ الدَّالُّ عَلَيْهِ بِاعْتِبَارِهِ يُسَمَّى اللَّفْظَ الشَّاخِصَ، كَاسْمِ زَيْدٍ وَمَعْنَاهُ۔ وَكُلُّ مَعْنًى يَشْمَلُهُ غَيْرُهُ، فَهُوَ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِ سَمَّيْنَاهُ «الْمَعْنَى الْمُنْحَطَّ»۔

دوسرا ضابطہ؛ [تصور اور تصدیق کی تقسیم کے بارے میں]

وہ یہ ہے کہ؛ جب تم کسی ایسی چیز کا ادراک کرتے ہو جو تم سے غائب ہے، تو (حقیقت یہ ہے کہ) اس کا ادراک — جیسا کہ اس مقام کے لائق ہے — اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کی حقیقت کا ایک مثال (ایک عقلی صورت) تمہارے (ذہن کے) اندر حاصل ہو جائے۔ کیونکہ جب تم کسی غائب شے کی ذات کو جان لو، اگر تم پر اس کا کوئی اثر حاصل نہ ہوا ہو، تو علم حاصل کرنے سے پہلے اور بعد کی حالت یکساں رہی؛ اور اگر تم پر اس کا کوئی اثر حاصل ہوا مگر وہ (حقیقت سے) مطابقت نہ رکھتا ہو، تو تم نے اسے ویسا جانا ہی نہیں جیسا وہ ہے۔ پس جو کچھ تم نے جانا ہے اس کی جانب سے مطابقت ضروری ہے۔ پس وہ اثر جو تم میں ہے وہی اس (شے) کا مثال (یا عقلی صورت) ہے اور وہ معنیٰ جو اپنے آپ میں بہت سے افراد کے مطابق ہونے کے لائق ہو، ہم نے اس پر "عام معنیٰ" (عُمُومی/کلی معنیٰ) کا اصطلاحی نام رکھا ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے لفظ کو "عام لفظ" (عُمُومی لفظ) کہتے ہیں، جیسے لفظ "انسان" اور اس کا معنیٰ اور لفظ سے سمجھا جانے والا مفہوم، جب اس میں ذاتی طور پر اصلًا کسی دوسرے کے ساتھ شرکت (اشتراک) کا تصور ہی نہ کیا جا سکے، وہ "شاخص معنیٰ" (مشخص/جُزئی معنی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے لفظ کو اس اعتبار سے "شاخص معنیٰ" (مشخص لفظ) کہا جاتا ہے، جیسے "زید" کا نام اور اس کا معنیٰ اور ہر وہ معنیٰ جسے کوئی دوسرا معنی شامل (احاطہ) کرتا ہو، تو وہ (پہلے معنیٰ کی) نسبت سے ہم نے "منحط معنیٰ" (نازل/فروتر معنیٰ) کا نام دیا ہے۔(٣)

الضَّابِطُ الْثَالِثُ [فِي المَاہِیَّاتُ]

٩. هُوَ أَنَّ كُلَّ «حَقِيقَةٍ» فَإِمَّا «بَسِيطَةٌ» وَهِيَ الَّتِي لَا جُزْءَ لَهَا فِي الْعَقْلِ، أَوْ غَيْرُ بَسِيطَةٍ وَهِيَ الَّتِي لَهَا جُزْءٌ كَالْحَيَوَانِ؛ فَإِنَّهُ مُرَكَّبٌ مِنْ جِسْمٍ وَشَيْءٍ يُوجِبُ حَيَاتَهُ۔ وَالْأَوَّلُ «جُزْءٌ عَامٌّ» أَيْ؛ إِذَا أُخِذَ هُوَ وَالْحَيَوَانُ فِي الذِّهْنِ، كَانَ هُوَ – أَيْ الْجِسْمُ – أَعَمَّ مِنَ الْحَيَوَانِ، وَالْحَيَوَانُ مُنْحَطٌّ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِ۔ وَالثَّانِي هُوَ «الْجُزْءُ الْخَاصُّ» الَّذِي لَا يَكُونُ إِلَّا لَهُ۔ وَالْمَعْنَى الْخَاصُّ بِالشَّيْءِ يَجُوزُ أَنْ يُسَاوِيَهُ كَاسْتِعْدَادِ النُّطْقِ لِلْإِنْسَانِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ أَخَصَّ مِنْهُ كَالرَّجُلِيَّةِ لَهُ۔ وَالْحَقِيقَةُ قَدْ تَكُونُ لَهَا «عَوَارِضُ مُفَارِقَةٌ» كَالضَّحِكِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ، وَقَدْ تَكُونُ لَهَا «عَوَارِضُ لَازِمَةٌ»۔ وَاللَّازِمُ التَّامُّ مَا يَجِبُ نِسْبَتُهُ إِلَى الْحَقِيقَةِ لِذَاتِهِ، كَنِسْبَةِ الزَّوَاوِيَ الثَّلَاثِ إِلَى الْمِثْلَثِ، فَإِنَّهَا مُمْتَنِعَةُ الرَّفْعِ فِي الْوَهْمِ۔ وَلَيْسَ أَنَّ فَاعِلًا جَعَلَ الْمِثْلَثَ ذَا زَوَايَا ثَلَاثٍ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَا لَكَانَتْ مُمْكِنَةَ اللَّحُوقِ وَاللَّالْحُوقِ بِالْمِثْلَثِ، وَكَانَ يَجُوزُ تَحَقُّقُ الْمِثْلَثِ دُونَهَا، وَهُوَ مُحَالٌ۔

تیسرا ضابطہ؛ [تصور اور تصدیق کی تقسیم کے بارے میں]

یہ ہے کہ؛ ہر "حقیقت" (ماہیت/ذات) یا تو "بسیط" ہوتی ہے اور وہ، وہ ہے جس کا عقل میں کوئی جزء (حصہ) نہ ہو یا پھر "غیر بسیط" ہوتی ہے، اور وہ، وہ ہے جس کا کوئی جزء ہو، جیسے "حیوان"۔ کیونکہ وہ جسم اور ایک ایسی چیز سے مرکب ہے جو اس کی زندگی کا سبب ہے۔
اور پہلا (جزء) "جزء عام" ہوتا ہے، یعنی؛ جب ذہن میں اس (جزء) اور حیوان دونوں کو لیا جائے، تو وہ یعنی جسم حیوان سے اعم (زیادہ عمومی) ہوتا ہے، اور حیوان اس کے نسبت منحط (فروتر) ہوتا ہے اور دوسرا (جزء) وہ "جزء خاص" ہوتا ہے جو صرف اسی (حقیقت) کے لیے ہو اور کسی چیز کا خاص معنیٰ یا تو اس کے مساوی ہو سکتا ہے، جیسے انسان کے لیے نطق کی استعداد (کیونکہ یہ انسان کی ماہیت کا لازمہ ہے) یا پھر اس سے اخص (زیادہ خاص) ہو سکتا ہے، جیسے انسان کے لیے مرد ہونا اور حقیقت کے لیے "عوارضِ مفارق" (جدا ہونے والے/غیر لازم عرض) ہو سکتے ہیں، جیسے انسان کے لیے عملی طور پر ہنسنا۔ اور اس کے لیے "عوارضِ لازم" (لازم/ضروری عرض) بھی ہو سکتے ہیں۔اور لازم تام (کامل/ذاتی لازم) وہ ہے جس کی نسبت حقیقت کی جانب اس کی ذات ہی کی وجہ سے واجب (ضروری) ہو، جیسے تین زاویوں کی نسبت مثلث کی جانب۔ کیونکہ وہم (تصور) میں ان (زوایا) کا رفع ہونا (یعنی مثلث سے جدا ہونا) محال ہے۔
اور (یہ لازم تام) یوں نہیں ہوتا کہ کوئی فاعل (بناوٹ کرنے والا) مثلث کو تین زاویوں والا بنائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو (تین زاویے) مثلث کے ساتھ لاحق ہونا اور نہ ہونا دونوں ممکن ہوتے، اور مثلث کا ان (زوایا) کے بغیر بھی تحقق پانا جائز ہوتا اور یہ محال ہے۔(٤)

الضَّابِطُ ٱلرَّابِع [فِي المَاہِیَّاتُ]

١٠. هُوَ أَنَّ كُلَّ حَقِيقَةٍ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ مَا الَّذِي يَلْزَمُهَا لِذَاتِهَا بِالضَّرُورَةِ دُونَ إِلْحَاقِ فَاعِلٍ، وَمَا الَّذِي يَلْحَقُهَا مِنْ غَيْرِهَا؛ فَانْظُرْ إِلَى الْحَقِيقَةِ وَحْدَهَا وَاقْطَعِ النَّظَرَ عَنْ غَيْرِهَا، فَمَا يَسْتَحِيلُ رَفْعُهُ عَنِ الْحَقِيقَةِ وَهُوَ تَابِعٌ لِلْحَقِيقَةِ، فَمُوجِبُهُ وَعِلَّتُهُ نَفْسُ الْحَقِيقَةِ؛ إِذْ لَوْ كَانَ الْمُوجِبُ غَيْرَهَا لَكَانَ مُمْكِنَ اللَّحُوقِ وَالرَّفْعِ۔ وَالْجُزْءُ مِنْ عَلَامَاتِهِ تَقَدُّمُ تَعَقُّلِهِ عَلَى تَعَقُّلِ الْكُلِّ، وَأَنَّ لَهُ دَخْلًا فِي تَحَقُّقِ الْكُلِّ۔ وَالْجُزْءُ الَّذِي يُوصَفُ بِهِ الشَّيْءُ، كَالْحَيَوَانِيَّةِ لِلْإِنْسَانِ وَنَحْوِهَا، سَمَّاهُ أَتْبَاعُ الْمَشَّائِينَ «ذَاتِيًّا»، وَنَحْنُ نَذْكُرُ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ مَا يَجِبُ۔ وَالْعَرَضُ اللَّازِمُ أَوِ الْمُفَارِقُ يَتَأَخَّرُ عَنِ الْحَقِيقَةِ فِي التَّعَقُّلِ؛ وَالْحَقِيقَةُ لَهَا دَخْلٌ مَا فِي وُجُودِهِ. وَالْعَرَضُ قَدْ يَكُونُ أَعَمَّ مِنَ الْمَشِيَّةِ، كَاسْتِعْدَادِ الْمَشْيِ لِلْإِنْسَانِ، وَقَدْ يَخْتَصُّ بِهِ؛ كَاسْتِعْدَادِ الضَّحِكِ لِلْإِنْسَانِ۔

چوتھا ضابطہ؛ [ماہیت کے بیان میں]

یہ ہے کہ: ہر "حقیقت" (ماہیت/ذات) کے بارے میں، جب تم یہ جاننا چاہو کہ کون سی چیز اس کی ذات کے لحاظ سے ضروری طور پر اسے لازمی ہے، بغیر کسی فاعل (خارجی عامل) کے اضافے کے، اور کون سی چیز اس سے غیر (بیرونی) طرف سے لاحق ہوتی ہے؛ تو صرف حقیقت ہی کی طرف دیکھو اور دوسری ہر چیز سے نظر ہٹا لو۔ پس جو چیز حقیقت سے رفع (ہٹائے جانا) کا محال ہو اور حقیقت کی تابع ہو، تو اس کا موجد اور علت خود وہی حقیقت ہے۔ کیونکہ اگر اس کا موجد غیر (دوسری چیز) ہوتا تو (اس کا) لاحق ہونا اور رفع ہونا دونوں ممکن ہوتے اور جزء (حصے) کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ اس کا تعقُّل (سمجھا جانا) کل (پوری حقیقت) کے تعقُّل پر مقدم ہوتا ہے، اور یہ کہ کل کے تحقق میں اس کا دخل ہوتا ہے اور وہ جزء جس سے کوئی چیز موصوف (متّصف) ہوتی ہے، جیسے انسان کے لیے حیوانیت، اسے مشائین کے پیروکار "ذاتی" کہتے ہیں، اور ہم ان چیزوں میں وہی بیان کرتے ہیں جو بیان کرنا ضروری ہے اور لازم عرض یا مفارق عرض، تعقُّل (سمجھے جانے) میں حقیقت سے متأخر (بعد میں) ہوتا ہے؛ اور حقیقت کا اس (عرض) کے وجود میں کوئی نہ کوئی دخل ہوتا ہے اور عرض یا تو مشیّت (پوری چیز) سے اعم (زیادہ عمومی) ہو سکتا ہے، جیسے انسان کے لیے چلنے کی استعداد۔ یا پھر خاص اس کے لیے ہو سکتا ہے، جیسے انسان کے لیے ہنسنے کی قابلیت۔(٥)

الضَّابِطُ الْخَامِسُ؛ [فِي أَنَّ الْكُلِّيَّ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ فِي الْخَارِجِ]

١١. هُوَ أَنَّ «الْمَعْنَى الْعَامَّ» لَا يَتَحَقَّقُ فِي خَارِجِ الذِّهْنِ، إِذْ لَوْ تَحَقَّقَ لَكَانَ لَهُ هُوِيَّةٌ يَمْتَازُ بِهَا عَنْ غَيْرِهِ لَا يَتَصَوَّرُ فِيهَا الشَّرِكَةُ، فَصَارَتْ شَاخِصَةً وَقَدْ فُرِضَتْ عَامَّةً؛ وَهُوَ مُحَالٌ وَ «الْمَعْنَى الْعَامُّ» إِمَّا أَنْ يَكُونَ وُقُوعُهُ عَلَى الْكَثِيرِينَ بِالسَّوَاءِ، كَالْأَرْبَعَةِ عَلَى شَوَاخِصِهِ، وَيُسَمَّى «الْعَامَّ الْمُتَسَاوِقَ»، وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَلَى سَبِيلِ الْأَتْمِ وَالْأَنْقَصِ، كَالْأَبْيَضِ عَلَى الثَّلْجِ وَالْعَاجِ وَسَائِرِ مَا فِيهِ الْأَتْمُ وَالْأَنْقَصُ، نُسَمِّيهِ «الْمَعْنَى الْمُتَفَاوِتَ»۔ وَإِذَا تَكَثَّرَتِ الْأَسْمَاءُ لِمُسَمًّى وَاحِدٍ سُمِّيَتْ «مُتَرَادِفَةً»۔ وَإِذَا تَكَثَّرَتْ مُسَمَّيَاتُ اسْمٍ وَاحِدٍ لَا يَكُونُ وُقُوعُهُ عَلَيْهَا بِمَعْنًى وَاحِدٍ، أَمْثَالُهُ سُمِّيَتْ «مُشْتَرَكَةً»۔ وَ الْاسْمُ إِذَا أُطْلِقَ فِي غَيْرِ مَعْنَاهُ لِمُشَابَهَةٍ أَوْ لِمُجَاوَرَةٍ أَوْ مُلَازَمَةٍ يُسَمَّى «مَجَازِيًّا»۔

پانچواں ضابطہ؛ (یہ بات کہ کلی (عمومی معنی) خارجی وجود نہیں رکھتا)

یہ ہے کہ "عمومی معنی" ذہن کے خارج میں متحقق (حقیقی وجود میں) نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر وہ خارج میں متحقق ہوتا تو اس کی ایک ایسی ہویّت (شناخت) ہوتی جس کے ذریعے وہ دوسروں سے ممتاز ہوتا اور جس میں شرکت (اشتراک) کا تصور نہ کیا جا سکتا، پس وہ "شاخص" (مشخص، جزئی) ہو جاتا، حالانکہ اسے "عام" فرض کیا گیا تھا — اور یہ محال (ناممکن) ہے اور "عمومی معنی" یا تو اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا بہت سے افراد پر یکساں طور پر اطلاق ہوتا ہے، جیسے عدد "چار" کا اپنے تمام مصادیق (چار اشیاء) پر یکساں اطلاق۔ اسے "متساوی الاطلاق عام" کہتے ہیں۔ یا پھر اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا اطلاق کمال و نقص (مکمل اور ناقص درجات) کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے "سفیدی" کا برف، ہاتھی دانت اور دوسری چیزوں پر اطلاق جہاں اس کی شدت میں فرق ہوتا ہے۔ ہم اسے "متفاوت المعنی" کہتے ہیں اور جب ایک ہی مسمّٰی (حقیقت) کے لیے کئی نام ہوں تو انہیں "مترادفہ" (مترادفات) کہا جاتا ہے۔ اور جب ایک ہی نام کے کئی مسمّٰیات (مفہوم/مصداق) ہوں، اور اس نام کا ان سب پر ایک ہی معنی میں اطلاق نہ ہو، تو اس جیسی مثالوں کو "مشترکہ" (مشترک لفظ) کہا جاتا ہے اور جس نام کو کسی مشابہت، قربت (مجاورت) یا لازمیت کی وجہ سے اس کے اصل معنی کے علاوہ کسی معنی میں استعمال کیا جائے، اسے "مجازی" کہا جاتا ہے۔(٦)

الضابط السادس 

[في المعارف الانسان [معارف الإنسان]] 

١٢. هُوَ أَنَّ مَعَارِفَ الْإِنْسَانِ فِطْرِيَّةٌ أَوْ غَيْرَ فِطْرِيَّةٍ۔ وَالْمَجْهُولُ إِذَا لَمْ يَكْفِهِ التَّنْبِيهُ وَالْإِخْطَارُ بِالْبَالِ، وَلَيْسَ مِمَّا يُتَوَصَّلُ إِلَيْهِ بِالْمُشَاهَدَةِ الْحَقَّةِ الَّتِي لِلْحُكَمَاءِ الْعِظَامِ، لَا بُدَّ لَهُ مِنْ مَعْلُومَاتٍ مُوصِلَةٍ إِلَيْهِ، ذَاتِ تَرْتِيبٍ مُوصِلٍ إِلَيْهِ، مُنْتَهِيَةٍ فِي التَّبَيُّنِ إِلَى الْفِطْرِيَّاتِ؛ وَإِلَّا يَتَوَقَّفُ كُلُّ مَطْلُوبٍ لِلْإِنْسَانِ عَلَى حُصُولِ مَا لَا يَتَنَاهَى قَبْلَهُ، وَلَا يَحْصُلُ لَهُ أَوَّلُ عِلْمٍ قَطُّ، وَهُوَ مُحَالٌ۔

چھٹا ضابطہ؛ (انسان کی معرفتوں کے بارے میں)

١٢. یہ ہے کہ انسان کی معرفتیں (عُلُوم) یا تو فطری ہوتی ہیں یا غیر فطری اور معلوم نہ ہونے والی چیز (مجہول) جب اسے تنبیہ اور ذہن میں خیال لانے سے کام نہ چلے، اور وہ ان عظیم حکیموں کی حقیقی مشاہدے (براہِ راست کشف) سے حاصل ہونے والی چیزوں میں سے بھی نہ ہو، تو اسے (سمجھنے کے لیے) ایسی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس تک پہنچائیں، اور وہ معلومات اس تک پہنچانے والے ایک خاص ترتیب کے حامل ہوں، اور (آخر کار) وضاحت و بیان کے سلسلے کا اختتام فطری معلومات پر ہو۔ ورنہ (اگر ایسا نہ ہو) تو انسان کی ہر مطلوبہ چیز (ہر علم) اس بات پر موقوف ہو جائے گی کہ اس سے پہلے لا متناہی (بے انتہا) چیزیں حاصل ہو چکی ہوں، اور اس کے لیے کبھی کوئی پہلا علم حاصل ہی نہ ہو سکے — اور یہ (بات) محال (ناممکن) ہے۔(٧)

الضَّابِطُ السَّابِعُ [فِي التَّعْرِيفِ وَشَرَائِطِهِ]

١٣. هُوَ أَنَّ الشَّيْءَ إِذَا عُرِّفَ لِمَنْ لَا يَعْرِفُ، فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ التَّعْرِيفُ بِأُمُورٍ تَخُصُّهُ، إِمَّا لِتَخْصِيصِ الْأَحَادِ، أَوْ لِتَخَصُّصِ الْبَعْضِ، أَوْ لِلِاجْتِمَاعِ۔ وَالتَّعْرِيفُ لَا بُدَّ وَأَنْ يَكُونَ بِأَظْهَرَ مِنَ الشَّيْءِ، لَا بِمِثْلِهِ أَوْ بِمَا يَكُونُ أَخْفَى مِنْهُ، أَوْ يَكُونُ لَا يُعْرَفُ الشَّيْءُ إِلَّا بِمَا عُرِّفَ بِهِ۔ فَقَوْلُ الْقَائِلِ فِي تَعْرِيفِ الْأَبِ؛ «إِنَّهُ هُوَ الَّذِي لَهُ الْابْنُ» غَيْرُ صَحِيحٍ، فَإِنَّهُمَا مُتَسَاوِيَانِ فِي مَعْنَى الْمَعْرِفَةِ وَالْجَهَالَةِ، وَمَنْ عَرَفَ أَحَدَهُمَا عَرَفَ الْآخَرَ۔ وَمِنْ شَرْطِ مَا يُعَرَّفُ بِهِ الشَّيْءُ أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا قَبْلَ الشَّيْءِ، لَا مَعَ الشَّيْءِ۔ أَوْ يُقَالُ؛ «النَّارُ هِيَ الْإِسْطَقْسُ الشَّبِيهُ بِالنَّفْسِ» وَالنَّفْسُ أَخْفَى مِنَ النَّارِ۔ وَكَذَا قَوْلُهُمْ؛ «إِنَّ الشَّمْسَ كَوْكَبٌ يَطْلُعُ نَهَارًا» وَالنَّهَارُ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِزَمَانِ طُلُوعِ الشَّمْسِ۔ وَلَيْسَ تَعْرِيفُ الْحَقِيقَةِ جَرْدَ تَبْدِيلِ اللَّفْظِ، فَإِنَّ تَبْدِيلَ اللَّفْظِ إِنَّمَا يَنْفَعُ لِمَنْ عَرَفَ الْحَقِيقَةَ وَالتَبَسَ عَلَيْهِ مَعْنَى اللَّفْظِ۔ وَالْإِضَافِيَّاتُ يَنْبَغِي أَنْ تُؤْخَذَ فِي حُدُودِهَا السَّبَبُ الْمُوقِعُ لِلْإِضَافَةِ۔ وَالْمُشْتَقَّاتُ تُؤْخَذُ مَا مِنْهُ الِاشْتِقَاقُ مَعَ أَمْرٍ مَا حَدُّهَا عَلَى حَسَبِ مَوَاضِعِ الِاشْتِقَاقِ۔

ساتواں ضابطہ؛ (تعریف اور اس کی شرائط)

یہ ہے کہ؛ جب کسی چیز کی تعریف اس شخص کے لیے کی جائے جو اسے نہیں جانتا، تو ضروری ہے کہ تعریف ایسے امور کے ذریعے ہو جو اس چیز کے خاص ہوں، خواہ افراد کی تخصیص کے لیے ہوں، یا بعض (افراد) کے تخصّص کے لیے ہوں، یا اجتماع (سب افراد) کے لیے اور تعریف ضرور اس چیز سے زیادہ واضح چیزوں کے ذریعے ہونی چاہیے، نہ کہ اس جیسی چیزوں کے ذریعے یا ایسی چیزوں کے ذریعے جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوں، یا (اس طرح کہ) خود وہ چیز اس چیز کے بغیر معلوم نہ ہو جس کے ذریعے اس کی تعریف کی گئی ہے۔ پس کسی قائل کا باپ کی تعریف میں یہ کہنا کہ "وہ ہے جس کے بیٹا ہے"، صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ یہ دونوں (باپ اور بیٹا) معرفت (جاننے) اور جہالت (نہ جاننے) کے معنی میں برابر ہیں۔ جس نے ان میں سے ایک کو جان لیا اس نے دوسرے کو بھی جان لیا اور جن امور کے ذریعے کسی چیز کی تعریف کی جائے، ان کی شرط یہ ہے کہ وہ اس چیز سے پہلے معلوم ہوں، نہ کہ اس چیز کے ساتھ ہی معلوم ہوں یا پھر (غلط تعریف کی ایک مثال) یہ کہا جائے؛ "آگ وہ عنصر ہے جو نفس کے مشابہ ہے"، حالانکہ نفس، آگ سے زیادہ پوشیدہ (مبہم) ہے اور اسی طرح ان کا یہ کہنا (غلط ہے) کہ؛ "سورج وہ ستارہ ہے جو دن کے وقت طلوع ہوتا ہے"، کیونکہ دن، سورج کے طلوع ہونے کے وقت ہی کے ذریعے جانا جاتا ہے (یعنی دونوں کی معرفت ایک دوسرے پر موقوف ہے، یہ تعریف دوری/حلقوی ہے) اور حقیقت کی تعریف محض لفظ کو بدل دینا نہیں ہے، کیونکہ لفظ کا بدلنا صرف اُس شخص کے لیے مفید ہوتا ہے جسے حقیقت کا علم ہو اور لفظ کا معنی اس پر مشتبہ ہو گیا ہو اور اضافی امور کو ان کی حدود میں وہ سبب لے کر بیان کرنا چاہیے جو اضافت کا موقع بنتا ہے اور مشتقات کو وہ چیز لے کر بیان کرنا چاہیے جس سے اشتقاق ہوا ہے، اس کے ساتھ وہ امر جو حسبِ موقعِ اشتقاق ان کی حد (تعریف) بنتا ہے۔(٨)

فَصْلٌ [فِي الْحُدُودِ الْحَقِيقِيَّةِ]

قَالَ: اصْطَلَحَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى تَسْمِيَةِ الْقَوْلِ الدَّالِّ عَلَى مَاهِيَّةِ الشَّيْءِ «حَدًّا»، وَيَكُونُ دَالًّا عَلَى الذَّاتِيَّاتِ وَالْأُمُورِ الدَّاخِلَةِ فِي حَقِيقَتِهِ، وَمُعَرِّفَ الْحَقِيقَةِ بِالْعَوَارِضِ مِنَ الْخَارِجِيَّاتِ «رَسْمًا»۔ وَاعْلَمْ أَنَّ الْجِسْمَ مَثَلًا إِذَا أُثْبِتَ لَهُ مُثْبِتٌ جُزْءٌ يُشَكُّ فِيهِ بَعْضُ النَّاسِ وَيُنْكِرُهُ بَعْضُهُمْ، فَإِنَّ الْجَمَاهِيرَ لَا يَكُونُ عِنْدَهُمْ ذَلِكَ الْجُزْءُ مِنْ مَفْهُومِ الْمُسَمَّى، بَلْ لَا يَكُونُ الِاسْمُ إِلَّا لِمَجْمُوعِ لَوَازِمَ تَصَوُّرِهِ۔ ثُمَّ إِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْمَاءِ مَثَلًا وَالْهَوَاءِ، إِذَا ثَبَتَ أَنَّ لَهُ أَجْزَاءً غَيْرَ مَحْسُوسَةٍ يُنْكِرُهَا بَعْضُ النَّاسِ؛ فَتِلْكَ الْأَجْزَاءُ عِنْدَهُمْ لَا مَدْخَلَ لَهَا فِيمَا يَفْهَمُونَ مِنْهُ. وَكُلَّ حَقِيقَةٍ جُرْمِيَّةٍ إِذَا كَانَ الْجِسْمُ أَحَدَ أَجْزَائِهَا، وَحَالُهُ كَمَا سَبَقَ، فَمَا تَصَوَّرَ النَّاسُ مِنْهَا إِلَّا أُمُورًا ظَاهِرَةً عِنْدَهُمْ هِيَ الْمَقْصُودَةُ بِالتَّسْمِيَةِ لِلْوَاضِعِ وَلَهُمْ۔ فَإِذَا كَانَ حَالُ الْمَحْسُوسَاتِ كَذَا، فَكَيْفَ حَالُ مَا لَا يُحَسُّ شَيْءٌ مِنْهُ أَصْلًا! ثُمَّ إِنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ بِهِ تَحَقَّقَتْ إِنْسَانِيَّتُهُ، وَهُوَ مَجْهُولٌ لِلْعَامَّةِ وَالْخَاصَّةِ مِنَ الْمَشَّائِينَ، حَيْثُ جَعَلُوا حَدَّهُ «الْحَيَوَانَ النَّاطِقَ»، وَاسْتِعْدَادُ النُّطْقِ عَرَضِيٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِيقَةِ۔ وَالنَّفْسُ الَّتِي مَبْدَأُ هَذِهٖ الْأَشْيَاءِ لَا تُعْلَمُ إِلَّا بِاللَّوَازِمِ وَالْعَوَارِضِ، وَلَا أَقْرَبَ إِلَى الْإِنْسَانِ مِنْ نَفْسِهٖ، وَحَالُهٗ كَذَا؛ فَكَيْفَ يَكُونُ حَالُ غَيْرِهِ؟ عَلَى أَنَّا نَذْكُرُ فِيهِ مَا يَجِبُ۔

فصل؛ [حقیقی حدود (تعریفات) کے بارے میں]

مصنف کہتے ہیں؛ بعض لوگوں نے اس قول کو جو کسی چیز کی ماہیت پر دلالت کرتا ہے، "حد" کا نام دینے پر اصطلاح بنائی ہے۔ اور یہ (حد) ذاتیات اور وہ امور جو اس کی حقیقت کے داخل ہیں، پر دلالت کرتا ہے اور جو تعریف خارجی عوارض کے ذریعے حقیقت کو متعرف کروائے، اسے "رسم" کہتے ہیں اور جان لو کہ مثال کے طور پر جسم اگر کوئی ثابت کرنے والا اس کے لیے ایسا جزء ثابت کرے جس میں بعض لوگ شک کریں اور بعض اس کا انکار کر دیں، تو عام لوگوں کے ہاں وہ جزء اس مسمّٰی کے مفہوم میں شامل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ نام صرف اس کے تصور کے لوازم کے مجموعے کے لیے ہوتا ہے۔ پھر، مثال کے طور پر پانی اور ہوا میں سے ہر ایک اگر ثابت ہو جائے کہ اس کے غیر محسوس اجزاء ہیں جن کا بعض لوگ انکار کرتے ہیں، تو وہ اجزاء ان (عام لوگوں) کے ہاں اس (چیز) کی فہم میں کوئی دخول نہیں رکھتے اور ہر جرمی حقیقت (مادی چیز) جس کا جسم اس کے اجزاء میں سے ایک ہو، اور اس کی حالت (جسم کی) ویسی ہی ہو جیسی گزری، تو لوگ اس (حقیقت) کی جس چیز کا تصور کرتے ہیں وہ صرف وہ ظاہری امور ہیں جو ان کے نزدیک واضع (نام رکھنے والے) اور ان (خود) کے لیے تسمیہ (نام دینے) کے مقصود ہیں۔ پس اگر محسوسات کی حالت ایسی ہے، تو اس چیز کی کیا حالت ہوگی جس کا کچھ بھی محسوس نہیں ہے! پھر، اگر انسان کی کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے اس کی انسانیت متحقق ہوتی ہے، اور وہ چیز عوام اور مشائین (ارسطوئی فلسفیوں) کے خاص طبقے کے لیے مجہول ہے جہاں انہوں نے اس کی حد "حیوان ناطق" رکھی ہے، حالانکہ نطق کی استعداد ایک عارضی چیز ہے جو حقیقت کی تابع ہے اور وہ نفس جو ان (انسانی) چیزوں کا مبدا (منبع) ہے، وہ لوازم و عوارض کے ذریعے ہی معلوم ہوتی ہے۔ اور انسان سے اس کی اپنی نفس سے زیادہ قریب اور کوئی چیز نہیں، اور اس (نفس) کی حالت ایسی ہے، تو دوسری (روحانی) چیزوں کی کیا حالت ہوگی؟ (اس کے باوجود) ہم اس (موضوع) میں وہی بیان کریں گے جو بیان کرنا ضروری ہے۔(۹)

قَاعِدَةٌ إِشْرَاقِيَّةٌ [فِي هَدْمِ قَاعِدَةِ الْمَشَّائِينَ فِي التَّعْرِيفَاتِ]

١٥. سَلَّمَ الْمَشَّاؤُونَ أَنَّ الشَّيْءَ يُذْكَرُ فِي حَدِّهِ الذَّاتِيَّ الْعَامَّ وَالْخَاصَّ؛ فَالذَّاتِيُّ الْعَامُّ الَّذِي لَيْسَ بِجُزْءٍ لِذَاتِيٍّ عَامٍّ آخَرَ لِلْحَقِيقَةِ الْكُلِّيَّةِ الَّتِي يَتَغَيَّرُ بِهَا جَوَابُ «مَا هُوَ» يُسَمَّى «جِنْسًا»؛ وَالذَّاتِيُّ الْخَاصُّ بِالشَّيْءِ سَمَّوْهُ «فَصْلًا»۔ وَلِهَذَيْنِ نَظْمٌ فِي التَّعْرِيفِ غَيْرُ هَذَا، قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي مَوَاضِعَ أُخْرَى مِنْ كُتُبِنَا۔ ثُمَّ سَلَّمُوا أَنَّ الْمَجْهُولَ لَا يُتَوَصَّلُ إِلَيْهِ إِلَّا مِنَ الْمَعْلُومِ؛ فَالذَّاتِيُّ الْخَاصُّ لِلشَّيْءِ لَيْسَ بِمَعْهُودٍ لِمَنْ يَجْهَلُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، فَإِنَّهُ إِنْ عُهِدَ فِي غَيْرِهِ لَا يَكُونُ خَاصًّا بِهِ۔ وَإِذَا كَانَ خَاصًّا بِهِ، وَلَيْسَ بِظَاهِرٍ لِلْحِسِّ وَلَيْسَ مَعْهُودًا؛ فَيَكُونُ مَجْهُولًا مَعَهُ۔ فَإِذَا عُرِّفَ ذَلِكَ الْخَاصُّ أَيْضًا، إِنْ عُرِفَ بِالْأُمُورِ الْعَامَّةِ دُونَ مَا يُخُصُّهُ فَلَا يَكُونُ تَعْرِيفًا لَهُ، وَالْجُزْءُ الْخَاصُّ حَالُهُ عَلَى مَا سَبَقَ۔ فَلَيْسَ الْعَوْدُ إِلَى أُمُورٍ مَحْسُوسَةٍ أَوْ ظَاهِرَةٍ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ، إِنْ كَانَ يُخُصُّ الشَّيْءَ جُمْلَتُهَا بِالِاجْتِمَاعِ؛ وَسَتَعْلَمُ كُنْهَ هَذَا فِيمَا بَعْدُ۔ ثُمَّ مَنْ ذَكَرَ مَا عُرِفَ مِنَ الذَّاتِيَّاتِ لَمْ يُؤْمَنْ وُجُودُ ذَاتِيٍّ آخَرَ غَفَلَ عَنْهُ، وَلِلْمُسْتَشْرِحِ أَوِ الْمُنَازِعِ أَنْ يُطَالِبَهُ بِذَلِكَ. وَلَيْسَ لِلْمُعَرِّفِ حِينَئِذٍ أَنْ يَقُولَ؛ «لَوْ كَانَتْ صِفَةٌ أُخْرَى لَأَطْلَعْتُ عَلَيْهَا»؛ إِذْ كَثِيرٌ مِنَ الصِّفَاتِ غَيْرُ ظَاهِرَةٍ۔ وَلَا يُكْفِي أَنْ يُقَالَ: «لَوْ كَانَ لَهُ ذَاتِيٌّ آخَرُ مَا عَرَفْنَا الْمَاهِيَّةَ دُونَهُ»۔ فَيُقَالَ؛ إِنَّمَا تَكُونُ الْحَقِيقَةُ عُرِفَتْ جَمِيعَ ذَاتِيَّاتِهَا۔ فَإِذَا انْقَدَحَ جَوَازُ ذَاتِيٍّ آخَرَ لَمْ يُدْرَكْ؛ لَمْ تَكُنْ مَعْرِفَةُ الْحَقِيقَةِ مُتَيَقَّنَةً۔ فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْإِتْيَانَ عَلَى الْحَدِّ كَمَا الْتُزِمَ بِهِ الْمَشَّاؤُونَ غَيْرُ مُمْكِنٍ لِلْإِنْسَانِ، وَصَاحِبُهُمْ اعْتَرَفَ بِصُعُوبَةِ ذَلِكَ. فَإِذَنْ لَيْسَ عِنْدَنَا إِلَّا تَعْرِيفَاتٌ بِأُمُورٍ تُخُصُّ بِالِاجْتِمَاعِ۔

اشراقی قاعدہ (تعریفات کے متعلق قاعدۂ مشائی کے ہدم میں)

مشائین (ارسطوئی فلسفی) نے تسلیم کیا ہے کہ کسی چیز کو اس کی حد میں اس کے "ذاتی عام" اور "ذاتی خاص" کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ ذاتی عام (جنس)؛ وہ (ذاتی) جو کسی دوسرے ذاتی عام کا حصہ نہ ہو، اور اس کلی حقیقت کو بتائے جس سے "یہ کیا ہے؟" کے جواب میں تبدیلی آئے۔ ذاتی خاص (فصل)؛ چیز کا خاص ذاتی وصف۔ ان دونوں (جنس و فصل) سے تعریف کی ایک اور ترتیب (بھی) ہے جس کا ہم نے اپنی دوسری کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ پھر انہوں (مشائین) نے تسلیم کیا ہے کہ مجہول تک معلوم ہی کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔ مسئلہ؛ چیز کا ذاتی خاص (فصل) اس شخص کے لیے معلوم نہیں ہوتا جو اس چیز سے (خود) جاہل ہو۔ کیونکہ اگر وہ کسی دوسری چیز میں معلوم ہو، تو وہ خاص اس (چیز) کا نہیں رہے گا۔ نتیجہ؛ اگر وہ اس (چیز) کا خاص ہے، اور حس کے لیے ظاہر نہیں، اور معلوم بھی نہیں، تو وہ (خود) اس (چیز) کے ساتھ مجہول ہی رہے گا۔ پھر اگر اس خاص (فصل) کو بھی تعریف کی جائے، اور اسے عام امور کے ذریعے تعریف کیا جائے نہ کہ اس کے اپنے خاص امور کے ذریعے، تو وہ اس کی تعریف نہیں ہوگی۔ اور خاص جزء (فصل) کی حالت پہلے بیان کیے گئے (مسئلے) جیسی ہے۔ لہٰذا، (صحیح تعریف کے لیے) کسی دوسرے راستے سے محسوس یا ظاہر امور کی طرف لوٹنا (بھی کافی نہیں)، اگرچہ ان (امور) کا اجتماع چیز کو خاص کرتا ہو۔ اس کی حقیقت ہم آگے چل کر جان لیں گے۔ پھر، جو شخص معلوم ہونے والی ذاتیات کا تذکرہ کرے، اس بات کی ضمانت نہیں کہ کوئی دوسری (غائب) ذاتی موجود نہیں ہے جس سے وہ غافل رہا ہے۔ اور (اس پر) کسی سائل یا مناظر کو یہ مطالبہ کرنے کا حق ہے اور اس وقت معرِّف (تعریف کرنے والے) کے لیے یہ کہنا جائز نہیں؛ "اگر کوئی اور صفت ہوتی تو میں اسے جان لیتا"؛ کیونکہ بہت سی صفتیں غیر ظاہر ہوتی ہیں اور یہ کہنا کافی نہیں؛ "اگر اس کی کوئی اور ذاتی ہوتی تو ہم اس (موجودہ) ماہیت کو اس کے بغیر نہ جانتے"۔ اس پر جواب دیا جائے گا؛ "(صحیح تو یہ ہے کہ) حقیقت تب ہی معلوم ہوئی جب اس کی ساری ذاتیات معلوم ہوں"۔ لہٰذا، جب یہ امکان پیدا ہو جائے کہ کوئی اور (غائب) ذاتی ہے جو معلوم نہیں ہوا، تو حقیقت کی معرفت یقینی نہیں رہتی۔ پس واضح ہو گیا کہ جس طرح حد (مکمل تعریف) کا بیان مشائین نے لازم کیا ہے، وہ انسان کے لیے ممکن نہیں ہے، اور خود ان کے پیشوا (ارسطو) نے بھی اس کی دشواری کا اعتراف کیا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس صرف وہ تعریفیں رہ جاتی ہیں جو اجتماعی طور پر خاص کرنے والے امور کے ذریعے ہوں (نہ کہ ذاتی اجزاء کے ذریعے)۔(۱۰)(۱۱)

١. وَلِأَنَّ بَيْنَ اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى عِلَاقَةً مَا، وَرُبَّمَا أَثَّرَتْ أَحْوَالٌ فِي اللَّفْظِ فِي أَحْوَالٍ فِي الْمَعْنَى: فَلِذَلِكَ يَلْزَمُ الْمُنْطِقِيَّ أَنْ يُرَاعِيَ جَانِبَ اللَّفْظِ الْمُطْلَقِ مِنْ حَيْثُ هُوَ ذَلِكَ: غَيْرَ مُقَيَّدٍ بِلُغَةِ قَوْمٍ دُونَ قَوْمٍ۔ إِلَّا فِي مَا يَقِلُّ "اور چونکہ لفظ اور معنی کے درمیان ایک خاص قسم کا تعلق ہوتا ہے، اور کبھی لفظ کے احوال (کیفیات) معنی کے احوال پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے منطقی پر لازم ہے کہ وہ لفظ کے مطلق (آزاد اور کلی) پہلو کا خیال رکھے — اس اعتبار سے کہ وہ (لفظ) کسی ایک قوم کی مخصوص زبان کی قید سے آزاد ہو — سوائے ان موارد کے جو بہت کم ہیں۔" [ابن سینا، الاشارات والتنبیہات، ص ۲۱ تا ۲۲]۔

٢. "دَلَالَةُ الْقَصْدِ": جب لفظ اپنے بنیادی اور اصل معنی کے لیے استعمال ہو۔ جیسے "انسان" کہنے سے مراد انسان کی نوع۔ "دَلَالَةُ الْحِيطَةِ": جب لفظ اپنے معنی کے کسی حصے کے لیے استعمال ہو۔ مگر سہروردی بتاتے ہیں کہ ہر لفظ کا کوئی جزو نہیں ہوتا، اس لیے یہ دلالت ہمیشہ موجود نہیں ہوتی۔ "دَلَالَةُ التَّطَفُّلِ": جب لفظ اپنے معنی کے لازم (ضروری لوازم) کے لیے استعمال ہو۔ ان کے مطابق ہر چیز کا کوئی نہ کوئی لازم ہوتا ہے (جیسے انسان ہونے کا لازم جسمانی ہونا ہے)، اس لیے ہر دلالتِ قصد کے ساتھ کوئی نہ کوئی دلالتِ تطفل بھی جڑی ہوتی ہے۔ مثال سے وضاحت؛ "حیوان" ایک عام لفظ ہے۔ جب کوئی کہتا ہے "میں نے حیوان دیکھا"، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے حیوان کی ہر خاص قسم (جیسے انسان، گھوڑا) دیکھی ہے۔ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے "انسان" نہیں دیکھا (کیونکہ انسان حیوان کا ایک خاص جزو/نوع ہے)۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے "جسم" نہیں دیکھا، کیونکہ "جسم ہونا" حیوان ہونے کا ایک لازم ہے — ہر حیوان جسم رکھتا ہے۔ لہٰذا "حیوان دیکھنے" کا دعویٰ کرنا، "جسم دیکھنے" کے دعوے کو خودبخود شامل کر لیتا ہے۔ فلسفیانہ نکتہ؛ یہ ضابطہ درحقیقت لفظ و معنی کے تعلق اور منطقی عموم و خصوص کی بحث ہے۔ سہروردی یہاں اپنی منطقی بنیاد رکھ رہے ہیں اور واضح کر رہے ہیں کہ الفاظ کن کن طریقوں سے معنی کو پہنچاتے ہیں، تاکہ بعد میں ہونے والی پیچیدہ فلسفیانہ بحثوں میں الفاظ کے صحیح استعمال پر روشنی پڑ سکے۔ یہ ان کے منظم اور ضابطہ بند فلسفیانہ اسلوب کی عکاسی کرتا ہے۔ ۱۲

٣. خُلاصہ: اس ضابطے میں سہروردی علم (ادراک) کی ماہیت بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غائب شے کا علم ہمارے ذہن میں اس کی ایک مطابقت رکھنے والی ذہنی صورت (مثال) کے حصول سے ہوتا ہے۔ پھر وہ معانی (تصورات) کی ایک منطقی تقسیم پیش کرتے ہیں؛ ١۔ عمومی (کلی) معنی (جو کئی افراد میں مشترک ہو)، ٢۔ مشخص (جُزئی) معنی (جو صرف ایک فرد سے مخصوص ہو)، اور ٣۔ نازل (فروتر) معنی (جو کسی وسیع تر معنی کے تحت آتا ہو)۔ یہ تقسیم ان کے فلسفیانہ نظام میں مفاہیم کے درجاتی تعلق اور علم کی ساخت کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے۔

٤. سہروردی اس ضابطے میں "ماہیات" (حقیقتوں) کی ساخت، ان کے اجزاء اور ان سے متعلق صفات (عوارض) کے درجاتی تعلق کی منطقی وضاحت کر رہے ہیں۔ ١. بسیط بمقابلہ مرکب حقیقت، بسیط: وہ حقیقت جسے ذہن مزید چھوٹے اجزاء میں تقسیم نہ کر سکے۔ مثال: وجود، وحدت۔ غیر بسیط (مرکب): وہ حقیقت جس کے ذہنی اجزاء ہوں۔ مثال: حیوان۔ ٢. مرکب حقیقت کے دو قسم کے اجزاء: جزء عام: وہ جزو جو کئی حقیقتوں میں مشترک ہو۔ حیوان کا "جسم" ایک جزء عام ہے، کیونکہ جسم ہونا صرف حیوان ہی میں نہیں، جمادات و نباتات میں بھی پایا جاتا ہے۔ حیوان جسم سے منحط ہے (یعنی جسم کے دائرے میں آتا ہے)۔ جزء خاص: وہ جزو جو صرف اسی حقیقت کے لیے مخصوص ہو اور اس کی تعریف میں داخل ہو۔ حیوان کا "زندگی کا سبب" (یعنی نفس ناطقہ وغیرہ) اس کا جزء خاص ہے۔ ٣. خاص معنی کی اقسام (نسبتیں)  مساوی: وہ خاص معنی جو پوری حقیقت کے ساتھ ہم پہلو ہو، جیسے "ناطق" انسان کے لیے۔ (ہر انسان ناطق ہے اور ہر ناطق انسان ہے)۔ اخص (مزید خاص): وہ خاص معنی جو حقیقت کے فقط ایک حصے پر منطبق ہو، جیسے "مرد" انسان کے لیے۔ (ہر مرد انسان ہے، مگر ہر انسان مرد نہیں)۔ ٤. عوارض (صفات) کی اقسام عوارض مفارقہ؛ وہ صفات جو حقیقت کا لازمہ نہ ہوں اور اس سے جدا ہو سکیں، جیسے "ہنسنا"۔ انسان بغیر ہنسے بھی موجود ہو سکتا ہے۔ عوارض لازمہ: وہ صفات جو حقیقت کے ساتھ لازم طور پر رہیں۔ ان میں سب سے اہم "لازم تام" ہے۔ ٥. لازم تام کی مثال و تعریف: مثال: مثلث کے لیے "تین زاویے رکھنا"۔ تعریف؛ یہ وہ لازم ہے جس کا تعلق حقیقت کی ذات سے ہو۔ اسے ذہن میں بھی حقیقت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایسا نہیں کہ کوئی باہر سے آکر مثلث کو تین زاویے عطا کرے۔ بلکہ تین زاویے ہونا ہی مثلث کی ماہیت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو مثلث کا تصور ہی محال ہے۔ اس لیے یہ ایک ذاتی و منطقی ضرورت ہے، نہ کہ ایک عارضی و اتفاقی وصف۔ خلاصہ؛ یہ ضابطہ منطق اور مابعدالطبیعات (ماہیات) کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح کسی چیز کی حقیقت (ماہیت) کو سمجھنے کے لیے اس کے اجزائے ترکیبی (عام و خاص)، اس کے لازم ذاتی اور عرضی صفات کے درمیان فرق کو جاننا ضروری ہے۔ یہ ساری تفریق فلسفیانہ بحث و استدلال میں دقیق اور غلطی سے پاک فکر کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے۔ زیادہ تفصیل درکار ہو تو دیکھیں تقسیم ١٢

٥. فلسفیانہ تشریح و وضاحت؛ شیخ مقتول اس ضابطے میں کسی حقیقت (ماہیت) کے ذاتی اوصاف اور غیر ذاتی (خارجی) اوصاف میں فرق کرنے کا ایک منطقی طریقہ بیان کر رہے ہیں۔ ١. امتیاز کا طریقہ کار؛ کسی چیز کی ماہیت کو اس کے تمام خارجی روابط اور عوامل سے الگ تھلگ کر کے دیکھو۔ جو وصف یا چیز اس الگ تھلگ کی گئی ماہیت سے ہٹانا محال ہو، اور وہ اس کی تابع ہو، تو وہ ذاتی لازم ہے۔ اس کی وجہ اور علت خود وہی ماہیت ہے۔ مثال؛ مثلث سے تصور میں تین زاویوں کو جدا کرنا محال ہے۔ یہ اس کا ذاتی لازم ہے، کوئی باہری فاعل اسے عطا نہیں کرتا۔ اگر کوئی وصف ایسا ہو جس کا ہٹانا ممکن ہو، تو وہ ذاتی نہیں، بلکہ کسی خارجی علت کا نتیجہ ہے۔ ٢. جزء کی تعریف و علامات؛ جزء وہ ہے جسے سمجھے بغیر کل (پوری ماہیت) کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ یعنی جزء کا فہم مقدم ہے اور وہ کل کے وجود میں حصہ دار ہوتا ہے۔ مثال؛ حیوانیت کو سمجھے بغیر انسانیت کو نہیں سمجھا جا سکتا (کیونکہ انسانیت حیوانیت کا ایک خاص قسم ہے)، اور حیوانیت انسان کے وجود کا ایک جزو ہے۔ ٣. "ذاتی" کی اصطلاح؛ سہروردی بتاتے ہیں کہ مشائین (ارسطوئی فلسفی) ایسے جزء کو جس سے کوئی چیز متصف ہو (جیسے انسان کا حَیوان ہونا)، "ذاتی" کہتے ہیں۔ یہاں "ذاتی" سے مراد اس کا تعریفی جزء ہونا ہے۔ ٤. عرض کا مقام اور اقسام؛ عرض (خواہ لازم ہو یا مفارق) کو سمجھنے کے لیے پہلے حقیقت (ماہیت) کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس لیے تعقُّل میں وہ ماہیت سے متأخر ہے لیکن ماہیت کا اس عرض کے وجود میں کچھ نہ کچھ دخل ضرور ہوتا ہے (یعنی عرض کسی خاص ماہیت ہی سے متعلق ہوتا ہے)۔ عرض کی دو قسمیں؛ اعمّ: جو اس ماہیت سے زیادہ عمومی چیزوں میں بھی پایا جائے۔ جیسے چلنا۔ یہ صرف انسان میں نہیں، بلکہ بہت سے حیوانات میں بھی ہے۔ اخصّ (خاص): جو صرف اسی ماہیت کے لیے مخصوص ہو۔ جیسے قہقہ لگا کر ہنسنا۔ یہ (اپنی کامل صورت میں) خاص انسان ہی کا وصف سمجھا جاتا ہے. خلاصہ؛  یہ ضابطہ ہمیں ایک تجزیاتی طریقہ دیتا ہے کہ کسی شے کی حقیقی ماہیت اور اس کے ذاتی لوازم کو اس کے عارضی اور خارجی اوصاف سے کیسے الگ کر کے پہچانا جائے۔ یہ طریقہ منطق، فلسفہ اور علمِ تعریف (حد و رسم) میں نہایت اہم ہے، تاکہ ہر چیز کی تعریف اس کی ذاتی حقیقت کے مطابق درست طور پر کی جا سکے۔ ١٢

٦. یہ ضابطہ ایک گہرے فلسفیانہ اور منطقی مسئلے سے متعلق ہے؛ کلیات کا وجود۔ ١. کلی کا خارجی وجود نہ ہونا: سہروردی (اور اکثر اسلامی فلاسفہ بشمول ابن سینا) کا موقف ہے کہ "انسانیت"، "حیوانیت" جیسے عمومی تصورات صرف ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ خارج میں تو صرف جزئی افراد ہی موجود ہوتے ہیں (جیسے زید، بکر، ایک خاص درخت)۔ اس کی دلیل یہ ہے: اگر "انسانیت" کا خارج میں کوئی ایک وجود ہو تو وہ لازمًا ایک مشخص وجود ہو گا (جیسے ایک خاص انسان)۔ لیکن "انسانیت" کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ بہت سوں میں مشترک ہے۔ یہ دونوں باتیں (مشخص ہونا اور سب میں مشترک ہونا) ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے یہ تصور صرف ذہن میں رہتا ہے۔ یہ نظریہ اصالت التصور کے قریب ہے۔ ٢. کلی کی اقسام؛ العام المتساوق؛ جس کا اطلاق تمام افراد پر بالکل ایک ہی معنی اور یکساں درجے میں ہو۔ جیسے عددی کلیات (رباعیت) یا خالص ریاضیاتی تصورات۔ المعنى المتفاوت؛ جس کا اطلاق مختلف افراد پر مختلف درجات (کمال و نقص) میں ہو۔ جیسے "سفیدی" کا برف (کامل سفیدی) اور دودھ یا ہاتھی دانت (ناقص سفیدی) پر اطلاق۔ یہاں معنی میں "تشکیک" ہے۔ ٣ الفاظ کی منطقی اقسام (آخری تین جملے)؛ سہروردی یہاں منطق کی روایتی تقسیم بیان کرتے ہیں؛ مترادفہ؛ ایک ہی چیز کے لیے کئی الفاظ۔ جیسے "اسد" اور "لیث" (دونوں شیر کے لیے)۔ مشترکہ؛ ایک لفظ کے کئی مکمل طور پر الگ معنی۔ جیسے عربی لفظ "عین" جس کے معنی آنکھ، سونے کا دینار، اور چشمہ (پانی کا) ہو سکتے ہیں۔ مجازی؛ کسی لفظ کا اصل معنی چھوڑ کر کسی ربط (مشابہت، قربت وغیرہ) کی وجہ سے کسی اور معنی میں استعمال۔ جیسے "شیر" کو بہادر آدمی کے لیے استعمال کرنا۔ خلاصہ؛ یہ ضابطہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ١. ہمارے عمومی تصورات حقیقی دنیا میں نہیں بلکہ صرف ذہن میں ہوتے ہیں۔ ٢. ان عمومی تصورات کے اطلاق کے دو بنیادی طریقے ہیں (یکساں اور متفاوت)۔ ٣. اور فلسفیانہ بحث میں الفاظ کے استعمال کو ان کی منطقی اقسام (مترادف، مشترک، مجازی) کے مطابق پرکھنا ضروری ہے تاکہ مغالطے سے بچا جا سکے۔ یہ منطق اور مابعدالطبیعات کے درمیان ایک اہم رابطہ قائم کرتا ہے۔

٧. یہ ضابطہ علمِ الانسان کے بنیادی مسئلے سے متعلق ہے؛ ہمارا علم کہاں سے آتا ہے؟ ١. علم کی دو بنیادی اقسام؛ فِطْرِيَّةٌ؛ وہ علم جو انسان کی فطرت اور عقل میں ابتداً ہی موجود ہو۔ فلسفیانہ اصطلاح میں یہ بدیہیات ہیں، جیسے: "کل اپنے جز سے بڑا ہے"، "ایک چیز ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر مکمل طور پر موجود نہیں ہو سکتی"، یا "ایک ہی چیز وجود اور عدم دونوں نہیں ہو سکتی"۔ یہ علم دلیل طلب نہیں ہوتا، بلکہ ہر دلیل اسی پر منتہی ہوتی ہے۔ غَيْرُ فِطْرِيَّةٍ؛ وہ علم جو فطری نہ ہو، یعنی تجربے، مشاہدے، تعلیم یا استدلال کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو۔ ٢. علم حاصل کرنے کے تین ذرائع؛ ضابطہ تین طریقے بیان کرتا ہے جن سے کوئی مجہول چیز معلوم ہو سکتی ہے؛ التَّنْبِيهُ وَالْإِخْطَارُ بِالْبَالِ: محض یاد دہانی یا توجہ دلانا۔ یہ اس صورت میں کافی ہوتا ہے جب علم فطری طور پر موجود ہو مگر اس پر توجہ مرکوز نہ ہو۔ الْمُشَاهَدَةِ الْحَقَّةِ لِلْحُكَمَاءِ الْعِظَامِ: عظیم حکیموں (صوفیاء/عارفین) کا براہِ راست کشفی مشاہدہ۔ یہ ایک بلند اور نادر درجہ ہے جو ہر کسی کے لیے میسر نہیں۔ مَعْلُومَاتٍ مُوصِلَةٍ...إِلَى الْفِطْرِيَّاتِ: ایک منطقی ترتیب وار سلسلۂ استدلال جو معلوم چیزوں سے شروع ہو کر بتدریج مجہول تک پہنچائے، اور جس کی آخری کڑی فطری بدیہیات پر جاکر ختم ہو۔ یہ عام انسانوں کا بنیادی راستہ ہے۔ ٣. لا متناہی تسلسل کا محال ہونا؛ آخری جملہ ایک منطقی دلیل ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ فطری بدیہیات کا وجود ضروری ہے۔ دلیل یہ ہے؛ فرض کرو ہر علم حاصل کرنے کے لیے اس سے پہلے ایک اور علم کی ضرورت ہے پھر کسی بھی علم (مثلاً علم ش) کے حصول کے لیے اس سے پہلے علم و کی ضرورت ہوگی، اور علم و کے لیے علم ی کی، اور یہ سلسلہ لا متناہی (بے انتہا) طور پر پیچھے کی طرف چلتا رہے گا۔ اگر ایسا ہو تو کبھی بھی کوئی پہلا علم حاصل نہیں ہو سکے گا جس پر یہ سارا سلسلہ ٹیک لگائے۔ نتیجہ؛  یہ محال ہے۔ لہٰذا، لازم ہے کہ علم کا سلسلہ کہیں نہ کہیں رُکے۔ اور وہ نقطۂ انتہا فطری بدیہیات ہیں جو بذات خود بے دلیل ہیں اور دوسرے علوم کی بنیاد ہیں۔ خلاصہ؛ یہ ضابطہ ایک علمی نظریہ پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق تمام استدلالی علم کی بنیاد فطری بدیہیات پر ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو علم کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر چیز کی دلیل مانگنے کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا اور علم کی کوئی بنیاد ہی نہ رہے گی۔ یہ نظریہ ابن سینا کے فلسفے کا ایک اہم ستون ہے۔۱۲

٨. شیخِ مقتول کا یہ ضابطہ تعریف کے فن کے بنیادی اصول بیان کرتا ہے، جو منطق و فلسفہ کی بنیاد ہے ١. تعریف کا مقصد و طریقہ؛ تعریف کا مقصد کسی مجہول چیز کو معلوم چیزوں کے ذریعے سمجھانا ہے۔ تعریف ایسے خاص اوصاف سے ہونی چاہیے جو اس چیز کو دوسری چیزوں سے ممتاز کر دیں۔ ٢. تعریف کی ناقابلِ قبول صورتیں (غلطیاں)؛ مساوی الجہالت؛ تعریف میں ایسے الفاظ استعمال کرنا جو خود تعریف کی جانے والی چیز جتنے ہی مجہول ہوں۔ مثال؛  "باپ وہ ہے جس کا بیٹا ہے۔" یہاں "باپ" اور "بیٹا" ایک دوسرے کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتے۔ ایسی تعریف کسی نئے علم کا اضافہ نہیں کرتی۔دوری/حلقوی تعریف؛ تعریف میں ایسی چیز کا حوالہ دینا جو خود اُسی چیز کی معرفت پر موقوف ہو۔ مثال: "دن وہ وقت ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے۔" اور "سورج وہ ہے جو دن کے وقت طلوع ہوتا ہے۔" یہ ایک دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ مبہم تر تعریف؛ تعریف میں ایسی چیز کا استعمال جو خود تعریف کی جانے والی چیز سے بھی زیادہ پیچیدہ اور غیر واضح ہو۔ مثال؛ "آگ وہ عنصر ہے جو نفس کے مشابہ ہے۔" یہاں "نفس" کی ماہیت "آگ" سے کہیں زیادہ مبہم اور فلسفیانہ بحث طلب ہے۔ محض مترادف الفاظ؛ محض ایک لفظ کو دوسرے مترادف لفظ سے بدل دینا۔ یہ صرف اس شخص کی مدد کرتا ہے جو حقیقت (مفہوم) تو جانتا ہو، صرف لفظ کا علم نہ رکھتا ہو۔ اصل تعریف تو مفہوم کی وضاحت ہوتی ہے۔ ٣. خاص اصطلاحات کے لیے ہدایات؛ اضافی مصطلحات (مثلًا: باپ، استاد، بڑا): ان کی تعریف میں وہ ربط یا سبب واضح کرنا ضروری ہے جو اس نسبت کو قائم کرتا ہے (مثلاً: اولاد کا ہونا، تعلیم دینا، حجم کا زیادہ ہونا)۔ مشتقات (مثلًا: عالِم، کتابی): ان کی تعریف میں اصل مادہ (جیسے علم، کتاب) اور اشتقاق کے موقع کے مطابق اضافی وضاحت شامل ہونی چاہیے۔ خلاصہ؛ یہ ضابطہ ایک سائنسی اور منطقی تعریف کے معیارات طے کرتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی اصطلاح یا تصور کی تعریف کرتے وقت کن منطقی مغالطوں سے بچنا ضروری ہے، تاکہ تعریف واضح، مفید اور علم میں اضافہ کرنے والی ہو۔ یہ اصول آج بھی علمی تحریر اور تحقیق میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ تفصیل درکار ہو تو تعریف ملاحظہ ہو۔ ۱۲

٩. یہ باب "حد" (حقیقی تعریف) اور "رسم" (علامتی/عارضی تعریف) کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ عام لوگوں کی فہم کا مدار صرف محسوس اور ظاہری چیزوں پر ہوتا ہے۔ ١. حد بمقابلہ رسم؛ حَدّ: وہ تعریف جو کسی چیز کی ماہیت (ذاتی حقیقت) کو اس کے ذاتی اجزاء کے ذریعے بیان کرے۔ (مثلاً انسان = حیوان ناطق) رَسْم: وہ تعریف جو کسی چیز کو اس کے خارجی اور عارضی علامات (عوارض) کے ذریعے پہچنوائے۔ ٢. عام فہم کی محدودیت؛ مصنف دلیل دیتے ہیں کہ عام لوگ (اور حتیٰ کہ ارسطوئی فلسفی بھی) کسی چیز کی حقیقی ماہیت تک نہیں پہنچ پاتے۔ مثال ۱ (جسم): اگر کوئی فلسفی جسم کے لیے کوئی ایسا غیر محسوس جزء (جیسے مادہ، صورت) ثابت کرے، تو عام لوگ اسے اس لفظ (جسم) کے مفہوم کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ صرف ظاہری علامات (جیسے حجم، وزن) سے جسم کا تصور کرتے ہیں۔ مثال ٢ (پانی، ہوا): ان کے خردبینی یا غیر محسوس اجزاء (مثلاً ایٹم، عناصر) عام فہم کا حصہ نہیں بنتے۔ نتیجہ؛ تمام مادی چیزوں کی تعریف میں عام لوگوں کا تصور صرف محسوس ظواہر تک محدود رہتا ہے۔ ٣. انسانی نفس: سب سے قریب اور سب سے زیادہ مجہول؛ یہاں مصنف انتہائی گہری بات کرتے ہیں: انسان کی اپنی نفس ہی اس کی انسانیت کی بنیاد ہے لیکن مشائین (ارسطوئی) اس کی حقیقی تعریف نہیں دے پائے۔ ان کی دی گئی حد "حیوان ناطق" درست نہیں، کیونکہ "ناطق ہونے کی استعداد" ایک عارض ہے، ذات نہیں۔ یہ حقیقی نفس کی تعریف نہیں کرتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نفس انسان سے سب سے زیادہ قریب ہونے کے باوجود، اسے صرف اس کے لوازم و عوارض (جیسے سوچنا، محسوس کرنا) کے ذریعے ہی جانا جاتا ہے، براہِ راست نہیں۔ ٤. روحانی حقائق کا حال؛ اگر انسان کی اپنی نفس — جو اس کے اتنے قریب ہے — کا حال یہ ہے کہ اس کی حقیقت مبہم اور استدلال سے پرے ہے، تو پھر دوسری روحانی حقائق اور مجردات (جیسے فرشتے، عقول، نورانی موجودات) کا کیا حال ہوگا؟ انہیں سمجھنا کتنا مشکل ہوگا؟ لیکن مصنف (شیخِ مقتول) کہتے ہیں کہ وہ ان مشکل موضوعات پر بھی وہی کچھ بیان کریں گے جو بیان کرنا ضروری ہے — یعنی اپنے اشراقی طریقے سے، جو کشف و ذوق پر مبنی ہے۔ خلاصہ؛ یہ باب درحقیقت مشائین (عقلی فلسفے) کی محدودیت کو ظاہر کرتا ہے، جو صرف محسوسات اور منطقی قیاس تک محدود ہے اور حقیقی ماہیات (خصوصًا روحانی حقائق) تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہ سہروردی کے اس دعوے کی بنیاد بناتا ہے کہ حکمتِ اشراق — جو عقل و کشف کے امتزاج پر قائم ہے — ہی ان عمیق حقائق کو جاننے کا راستہ ہے۔ یہاں قرآن یا حدیث کا کوئی براہِ راست حوالہ نہیں، لیکن یہ بحث اسلامی فلسفے میں "نفس" اور "ماہیات" پر ہونے والی گہری مباحث کا حصہ ہے۔ ١٢

١٠. سہروردی اس باب میں مشائین (ارسطوئی فلسفے) کی تعریف کی بنیادی تھیوری کو منطقی طور پر ہدف تنقید بناتے ہیں اور اسے ناقابل عمل ثابت کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے؛ ١. مشائین کا نظریہ؛  مشائین کے نزدیک کسی چیز کی حقیقی تعریف (حد) اس کے جنس اور فصل (مثلًا انسان = حیوان + ناطق) کے ذریعے ہوتی ہے، جہاں "فصل" وہ ذاتی خاص وصف ہے جو اس نوع کو جنس کے دوسرے انواع سے ممتاز کرتا ہے۔ ٢. اشراقیوں کا اعتراض (بنیادی مسئلہ)؛ تعریف کا مقصد کسی مجہول چیز کو سمجھانا ہے۔ لیکن اس چیز کا فصل (ذاتی خاص) خود اس چیز سے مجہول شخص کے لیے مجہول ہے۔ اگر وہ "فصل" کسی دوسری معلوم چیز میں پایا جاتا، تو وہ خاص نہیں رہتا۔ نتیجہ: آپ کسی چیز کی تعریف اس کے "فصل" کے ذریعے نہیں کر سکتے، کیونکہ "فصل" وہی چیز ہے جسے آپ سمجھانا چاہتے ہیں! یہ ایک منطقی دائرہ ہے۔ ٣. مشکل سے بچنے کی کوشش اور اس کا رد؛ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم "فصل" کو بھی اس کے عام اوصاف سے تعریف کر سکتے ہیں، تو سہروردی کہتے ہیں کہ پھر وہ "فصل" کی تعریف نہیں، بلکہ اس کے لوازم یا عوارض کی تعریف ہوگی۔ اس سے وہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ٤. ایک اور اہم اعتراض (نامعلوم ذاتیات کا امکان): ہم کبھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے کسی چیز کی تمام ذاتیات کو جان لیا ہے۔ ہمیشہ یہ امکان باقی رہتا ہے کہ کوئی اور اہم ذاتی وصف ہے جو ہماری نظر سے اوجھل ہے۔ اس لیے ہماری "مکمل حد" پر مبنی تعریف ہمیشہ غیر یقینی رہے گی۔ ٥. شیخِ مقتول کا نتیجہ اور اپنا راستہ: سہروردی اس بنیادی تنقید کے ذریعے ارسطوئی "حد" کے نظریے کو مکمل طور پر ناکارہ ثابت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حقیقت کی ایسی مکمل تعریف انسان کے لیے ناممکن ہے۔ اس کے بجائے، اشراقی طریقہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کو اجتماعی طور پر خاص کرنے والے اوصاف (بامور تخصّص بالاجتماع) کے ذریعے پہچنوائیں۔ یہ اوصاف ضروری نہیں کہ ذاتی اور تعریفی ہوں، بلکہ وہ ایک مجموعہ ہو سکتے ہیں جو مل کر اس چیز کو دوسری چیزوں سے الگ کر دے۔ یہ نقطہ نظر اشراقی علم کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو محض منطقی تجزیے پر نہیں، بلکہ مشاہدہ، کشف اور ذوق پر بھی انحصار کرتا ہے۔ چیزوں کی حقیقی پہچان ان کی نورانی ماہیت کے براہِ راست ادراک سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف منطقی اجزاء میں تقسیم سے۔ خلاصہ؛ یہ باب سہروردی کے فلسفے میں ایک منطقی انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ ارسطوئی تعریف کے قدیم رسمی نمونے کو باطل قرار دے کر اپنے اشراقی علمِ شناخت کے لیے راستہ صاف کرتے ہیں، جو تجزیاتی عقل اور کشفی بصیرت کے امتزاج پر قائم ہے۔ ۱۲

١١. قَالَ الْفَاضِلُ الشَّارِحُ؛ فِي تَعْرِيفِ الْعَرَضِ الذَّاتِيِّ بِأَخْذِ الْمَوْضُوعِ فِي حَدِّهِ، وَهَذِهِ عِبَارَةُ الْمُتَقَدِّمِينَ، أَوْرَدَهَا الشَّيْخُ فِي الشِّفَاءِ وَتَبِعَهُ مُقَلِّدَةُ الْمُتَأَخِّرِينَ. وَبَيَّنَ فِي الْحِكْمَةِ الْمَشْرِقِيَّةِ بُطْلَانَهَا بِأَنَّ الْمَوْضُوعَ مَاهِيَّتُهُ وَوُجُودُهُ مُتَمَيِّزٌ عَنْ مَاهِيَّةِ الْعَرَضِ وَوُجُودِهِ، فَكَيْفَ يُؤْخَذُ فِي حَدِّهِ؟ وَإِنَّهَا إِرَاءٌ غَيْرُ مُتَعَلِّقَةٍ بِمَاهِيَّاتِهَا مَوْضُوعَهَا، بَلْ تَعَلُّقُهَا بِهَا لِعَرْضِيَّتِهَا وَهِيَ مِنْ لَوَازِمِهَا. لِذَلِكَ عَدَلَ الشَّيْخُ عَنْ تِلْكَ الْعِبَارَةِ فِي هَذَا الْكِتَابِ إِلَى مَا ذَكَرَهُ. ثُمَّ جَعَلَ الرَّسْمَ الْجَامِعَ لِمَا يُحْمَلُ عَلَيْهِ الشَّيْءُ بِمَا هُوَ هُوَ، أَوْ هُوَ الَّذِي يَقْتَضِيهِ الشَّيْءُ بِمَا هُوَ هُوَ. قَالَ؛  وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمَاهِيَّةَ تَقْتَضِي الْمُقَوِّمَاتِ اقْتِضَاءَ الْمَعْلُولِ الْعِلَّةَ، وَتَقْتَضِي الْأَعْرَاضَ الذَّاتِيَّةَ اقْتِضَاءَ الْعِلَّةِ الْمَعْلُولَ۔وَأَقُولُ؛ مَا ذَكَرَهُ الشَّيْخُ فِي الْحِكْمَةِ الشَّرْقِيَّةِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ يَرْجِعُ إِلَى أَنَّ الْأَعْرَاضَ الَّتِي يُعَبَّرُ عَنْهَا بِمَا يَقْتَضِي تَخْصِيصَهَا بِمَوْضُوعَاتِهَا، فَتَعْرِيفَاتُهَا بِحَسَبِ أَسْمَائِهَا، إِنَّمَا تَشْتَمِلُ بِالضَّرُورَةِ عَلَى اعْتِبَارِ مَوْضُوعَاتِهَا. وَأَمَّا حَقَائِقُهَا فِي أَنْفُسِهَا فَإِمَّا تَكُونُ غَيْرَ مُشْتَمِلَةٍ مِنْ حَيْثُ الْمَاهِيَّاتِ عَلَى الْمَوْضُوعَاتِ، وَإِنْ كَانَتْ مُحْتَاجَةً إِلَيْهَا مِنْ حَيْثِ الْوُجُودِ. فَالْحَدُّ التَّامُّ يَلْتَئِمُ مِنْ مُقَوِّمَاتِ الْمَاهِيَّةِ دُونَ مُقَوِّمَاتِ الْوُجُودِ. فَمَا كَانَتْ مِنْ تِلْكَ الْمَاهِيَّاتِ بَسَائِطَ لَا أَجْنَاسَ لَهَا وَلَا فُصُولَ، فَلَا حُدُودَ لَهَا. وَمَا لَهَا أَجْنَاسٌ وَفُصُولٌ، فَحُدُودُهَا التَّامَّةُ تَشْتَمِلُ عَلَيْهَا دُونَ مَوْضُوعَاتِهَا. وَالْمُشْتَمِلَةُ عَلَى مَوْضُوعَاتِهَا إِنَّمَا هِيَ رُسُومُهَا لَا حُدُودُهَا. وَكُلُّ ذَلِكَ فِيمَا لَا يَقْتَضِي تَصَوُّرُ ذَوَاتِهَا الْاِلْتِفَاتَ إِلَى مَوْضُوعَاتِهَا. أَمَّا مَا يَقْتَضِي الْاِلْتِفَاتَ إِلَيْهَا، إِنَّمَا يَكُونُ مَفْهُومَاتُهَا مُرَكَّبَةً عَنْ حَقَائِقِهَا وَعَنِ اعْتِبَارِ مَوْضُوعَاتِهَا، وَيَنْبَغِي أَنْ يُحَدَّ بِاعْتِبَارِ الْمَوْضُوعَاتِ. وَذَلِكَ لِأَنَّ التَّعَلُّقَ بِالشَّيْءِ فِي الْوُجُودِ غَيْرُ التَّعَلُّقِ بِهِ فِي الْمَفْهُومِ، وَلَا يُطْلَبُ فِي التَّحْدِيدِ إِلَّا الْمَفْهُومُ۔

فاضل شارح (نصیر الدین طوسی) کہتے ہیں؛ (ابن سینا کی) عرض ذاتی کی تعریف میں موضوع کو اس کی حد میں شامل کرنے کے بارے میں — اور یہ متقدمین (قدیم فلاسفہ) کی عبارت ہے جسے شیخ (ابن سینا) نے "الشفاء" میں ذکر کیا اور ان کی تقلید میں متأخرین (بعد کے لوگ) بھی ان کے پیچھے چل پڑے اور (شیخ سہروردی) نے "الحکمۃ المشرقیۃ" میں اس (تعریف) کے بطلان کو واضح کیا ہے اس دلیل سے کہ موضوع کی ماہیت اور وجود، عرض کی ماہیت اور وجود سے ممتاز (الگ) ہے، تو پھر اسے عرض کی حد میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے؟ اور (حقیقت یہ ہے کہ) یہ (عرض ذاتی) اپنے موضوع کی ماہیت سے متعلق نہیں ہوتی، بلکہ اس کا تعلق اس (موضوع) سے اس کی عرضیت کی وجہ سے ہے، اور یہ (تعلق) اس (موضوع) کے لوازم میں سے ہے۔ اسی وجہ سے شیخ (ابن سینا) نے اس کتاب ("الاشارات") میں اس عبارت سے عدول کر کے وہ بات کہی ہے جو انہوں نے (یہاں) ذکر کی ہے۔ پھر انہوں (ابن سینا) نے رسم کی جامع تعریف یہ رکھی کہ؛ "وہ (قول) جو کسی چیز پر اس حیثیت سے حمل ہونے والی بات کو جمع کرے کہ وہ وہی ہے (یعنی اس کی ماہیت کے اعتبار سے)"، یا "وہ (امر) جس کی چیز خود اپنی حیثیت سے تقاضا کرتی ہے"۔ انہوں (ابن سینا) نے کہا؛ اور یہ اس لیے کہ ماہیت مقومات (تعریفی اجزاء) کا تقاضا معلول کا علت سے تقاضا کرنے کی طرح کرتی ہے، اور ذاتی اعراض کا تقاضا علت کا معلول سے تقاضا کرنے کی طرح کرتی ہے اور میں (شارح) کہتا ہوں؛ شیخ (سہروردی) نے "الحکمۃ المشرقیۃ" میں اس مقام پر جو کچھ ذکر کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ؛ وہ اعراض جن کے تعریف میں ان کے موضوعات کے ساتھ تخصیص کا تقاضا ہوتا ہے، تو ان کے اسماء کے اعتبار سے تعریفات ضروری طور پر ان کے موضوعات کے اعتبار کو شامل کرتی ہیں لیکن ان (اعراض) کی اپنی ذات میں حقیقتیں یا تو ماہیات کے اعتبار سے موضوعات کو شامل نہیں کرتیں، اگرچہ وہ وجود کے اعتبار سے ان (موضوعات) کے محتاج ہوں۔ اس لیے حد تام (مکمل تعریف) ماہیت کے مقومات (تعریفی اجزاء) سے مرکب ہوتی ہے، نہ کہ وجود کے مقومات سے۔ پس جو ماہیات بسیط ہوں، جن کی نہ اجناس ہوں نہ فصول، ان کی کوئی حدود نہیں ہوتی اور جن کی اجناس و فصول ہوں، ان کی حدود تامہ انہی (اجناس و فصول) کو شامل کرتی ہیں، نہ کہ ان کے موضوعات کو اور جو (تعریفات) ان کے موضوعات کو شامل کرتی ہیں، وہ درحقیقت ان کی رسوم ہوتی ہیں، ان کی حدود نہیں اور یہ سب کچھ ان (اعراض) کے بارے میں ہے جن کے ذوات کے تصور میں ان کے موضوعات کی طرف التفات (توجہ) کا تقاضا نہیں ہوتا رہے وہ (اعراض) جن کے (تصور میں) موضوعات کی طرف التفات کا تقاضا ہوتا ہے، تو ان کے مفہومات ان کی حقائق اور ان کے موضوعات کے اعتبار دونوں سے مرکب ہوتے ہیں، اور انہیں موضوعات کے اعتبار سے ہی حد بندی کرنی چاہیے اور یہ اس لیے کہ کسی چیز سے وجود میں تعلق، مفہوم میں تعلق سے مختلف ہے، اور تحدید (حد بندی) میں صرف مفہوم ہی مطلوب ہوتا ہے۔ فلسفیانہ خلاصہ؛ یہ اقتباس ابن سینا اور سہروردی کے درمیان "عرض ذاتی" کی تعریف کے ایک نکتے پر اختلاف کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے شارح (شاید نصیر الدین طوسی) سلجھا رہے ہیں۔ ١. ابن سینا کی پہلی رائے ("الشفاء" میں): عرض ذاتی کی تعریف میں اس کا موضوع (جس پر وہ عرض ہو) شامل کرنا۔ ٢. سہروردی کا اعتراض ("الحکمۃ المشرقیۃ" میں): موضوع کی ماہیت/وجود جدا ہے، اسے عرض کی حد میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تعلق عرضی اور لازمے کا ہے، ذاتی تعریفی جز کا نہیں۔ ٣. ابن سینا کی نظرثانی ("الاشارات" میں): وہ اس رائے سے ہٹ گئے اور عرض ذاتی کی تعریف میں موضوع کو شامل نہیں کیا۔ ٤. شارح کی وضاحت: شارح دونوں نقطہ ہائے نظر میں تطبیق دیتے ہوئے ایک بنیادی اصول واضح کرتے ہیں؛ حد (حقیقی تعریف)؛ صرف ماہیت کے ذاتی اجزاء (جنس و فصل) سے بنتی ہے۔ یہ مفہوم سے متعلق ہے۔ رسم (علامتی تعریف)؛ اس میں وجودی شرایط و علائق (جیسے موضوع) شامل ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ؛ اگر کسی عرض کے تصور ہی میں موضوع کا اعتبار داخل ہو (یعنی اسے بغیر موضوع کے سوچا ہی نہ جا سکے)، تو پھر اس کی تعریف میں موضوع کا ذکر آئے گا لیکن یہ تعریف اس کی "حد" نہیں بلکہ "رسم" ہوگی۔ اس کی حقیقی حد تو صرف اس کی اپنی ماہیت کے اجزاء (اگر ہوں) سے بنے گی۔ یہ بحث منطق میں حد و رسم کے دقیق فرق، اور مابعدالطبیعات میں ماہیت و وجود کے تعلق کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ۱۲

فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ

Comments

Popular posts from this blog

المقدمة

المقدمة (للسهروردي) بِسْــمِ ٱلـلّٰهِ الرّٰحْمٰنِ الرّٰحِیْمِ ١. جَلَّ ذِكْرُكَ اللّٰـهُمَّ، وَعَظُمَ قُدْسُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَعَلَتْ سُبْحَانُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ۔ صَلِّ عَلَى مُصْطَفَاكَ وَأَهْلِ رِسَالَتِكَ عُمُومًا وَخُصُوصًا، عَلَى مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى سَيِّدِ الْبَشَرِ، وَالشَّفِيعِ الْمُشَفَّعِ فِي الْمَحْشَرِ۔عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔ وَاجْعَلْنَا بِنُورِكَ مِنَ الْفَائِزِينَ، وَلِآلَائِكَ مِنَ الذَّاكِرِينَ، وَلِنِعْمَائِكَ مِنَ الشَّاكِرِينَ۔ اللّٰہ! تیرا نام بڑی بزرگی والا ہے، تیری ہستی نہایت پاک ہے، تیری پناہ بڑی عزت والی ہے، تیری پاکی بہت بلند ہے اور تیری عظمت سب سے بالا ہے۔ اپنے چنے ہوئے نبیﷺ اور اپنے تمام رسولوں پر، خاص طور پر اور عام طور پر، رحمت نازل فرما۔ خُصُوصًا محمد مصطفیٰﷺ پر جو انسانوں کے سردار ہیں (۱) اور قیامت کے دن جس کی شفاعت قبول ہوگی (۲) ۔ ان پر اور تمام رسولوں پر سلام ہو۔ اور اے  اللّٰہ ! ہمیں اپنے نور کی وجہ سے کامیاب ہونے والوں میں کر دے (۳) ، تیری نعمتوں کے سبب تیرا ذکر کرنے والوں میں کر دے، اور تیرے احسانات کی وجہ سے تیرا شکر ادا ...