Skip to main content

المقدمة

المقدمة

(للسهروردي)

بِسْــمِ ٱلـلّٰهِ الرّٰحْمٰنِ الرّٰحِیْمِ


١. جَلَّ ذِكْرُكَ اللّٰـهُمَّ، وَعَظُمَ قُدْسُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَعَلَتْ سُبْحَانُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ۔ صَلِّ عَلَى مُصْطَفَاكَ وَأَهْلِ رِسَالَتِكَ عُمُومًا وَخُصُوصًا، عَلَى مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى سَيِّدِ الْبَشَرِ، وَالشَّفِيعِ الْمُشَفَّعِ فِي الْمَحْشَرِ۔عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔ وَاجْعَلْنَا بِنُورِكَ مِنَ الْفَائِزِينَ، وَلِآلَائِكَ مِنَ الذَّاكِرِينَ، وَلِنِعْمَائِكَ مِنَ الشَّاكِرِينَ۔
اللّٰہ! تیرا نام بڑی بزرگی والا ہے، تیری ہستی نہایت پاک ہے، تیری پناہ بڑی عزت والی ہے، تیری پاکی بہت بلند ہے اور تیری عظمت سب سے بالا ہے۔ اپنے چنے ہوئے نبیﷺ اور اپنے تمام رسولوں پر، خاص طور پر اور عام طور پر، رحمت نازل فرما۔ خُصُوصًا محمد مصطفیٰﷺ پر جو انسانوں کے سردار ہیں(۱) اور قیامت کے دن جس کی شفاعت قبول ہوگی(۲)۔ ان پر اور تمام رسولوں پر سلام ہو۔ اور اے اللّٰہ! ہمیں اپنے نور کی وجہ سے کامیاب ہونے والوں میں کر دے(۳)، تیری نعمتوں کے سبب تیرا ذکر کرنے والوں میں کر دے، اور تیرے احسانات کی وجہ سے تیرا شکر ادا کرنے والوں میں کر دے(٤)۔
وَ بَعْدُ، اِعْلَمُوا إِخْوَانِي أَنَّ كَثْرَةَ اقْتِرَاحِكُمْ فِي تَحْرِيرِ «حِكْمَةِ الْإِشْرَاقِ» أَوْهَنَتْ عَزْمِي فِي الِامْتِنَاعِ، وَأَزَالَتْ مَيْلِي إِلَى الْإِضْرَابِ عَنِ الْإِسْعَافِ، وَ لَوْ لَاحِقٌ لَزِمَ وَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ وَ أَمْرٌ وَرَدَ مِنْ مَحَلٍّ يُفْضِي عِصْيَانُهُ إِلَى الْخُرُوجِ عَنِ السَّبِيلِ۔ لَمَّا كَانَ لِي دَاعِيَةُ الْإِقْدَامِ عَلَى إِظْهَارِهِ، فَإِنَّ فِيهِ الصُّعُوبَةَ مَا تَعْلَمُونَ، وَمَا زِلْتُمْ يَا مَعْشَرَ صُحْبَتِي وَفَّقَكُمُ اللَّهُ لِمَا يُحِبُّ وَيَرْضَى، تَلْتَمِسُونَ مِنِّي أَنْ أَكْتُبَ لَكُمْ كِتَابًا أَذْكُرُ فِيهِ مَا حَصَلَ لِي بِالذَّوْقِ فِي خَلَوَاتِي وَمُنَازَلَاتِي. وَلِكُلِّ نَفْسٍ طَالِبَةٍ قِسْطٌ مِنْ نُورِ اللَّهِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ، وَلِكُلِّ مُجْتَهِدٍ ذَوْقٌ نَقَصَ أَوْ كَمُلَ، وَلَيْسَ الْعِلْمُ وَقْفًا عَلَى قَوْمٍ لِيُغْلَقَ بَعْدَهُمْ بَابُ الْمَلَكُوتِ، وَيُمْنَعَ الْمَزِيدُ عَنِ الْعَالَمِينَ، بَلْ وَاهِبُ الْعِلْمِ الَّذِي هُوَ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ، وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ، وَشَرُّ الْقُرُونِ مَا طُوِيَ فِيهِ بِسَاطُ الِاجْتِهَادِ وَانْقَطَعَ فِيهِ سَيْرُ الْأَفْكَارِ وَانْحَسَمَ فِيهِ بَابُ الْمَكَاشَفَاتِ وَانْسَدَّتْ فِيهِ طُرُقُ الْمُشَاهَدَاتِ۔
اور پھر، میرے بھائیو! جان لو کہ "حکمت الاشراق" لکھنے کے بارے میں تمہارا بار بار اصرار میرے انکار کے عزم کو کمزور کر گیا ہے اور مدد سے روکے رہنے کی میری خواہش کو ختم کر دیا ہے۔ حالانکہ اس میں بہت سی مشکلات ہیں جو تم خود جانتے ہو۔ پھر بھی، جب تم سب اپنے ساتھیوں نے بار بار مجھ سے التجا کی، تو اللہ تمہیں اس چیز کی توفیق دے جو وہ پسند اور قبول کرتا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوں جس میں اپنے خلوتوں اور مُنازلات(٥) میں ذوق و وجدان سے جو کچھ پایا ہے وہ بیان کروں۔ ہر طالبِ نفس کے لیے اللہ کے نور سے چھوٹا یا بڑا حصہ ہے، اور ہر مجتہد کے لیے ایک ذوق ہے، خواہ وہ ناقص ہو یا کامل۔ علم محض چند خاص لوگوں تک محدود نہیں کہ ان کے بعد آسمان (ملكوت) کے دروازے بند ہو جائیں(٦) اور دنیا والوں کے لیے اضافہ کا راستہ روک دیا جائے۔ بلکہ (اللہ) علم عطا کرنے والا ہے(٧) جو واضح افق پر ہے، اور وہ غیب (کے علم) پر کنجوسی کرنے والا نہیں(٨) اور بُرے زمانے وہ ہیں جن میں اجتہاد کا فرش لپیٹ دیا جائے، افکار و خیالات کا سفر منقطع ہو جائے، مکاشفات کا دروازہ بند ہو جائے اور مشاہدات کے راستے مسدود ہو جائیں۔
٣. وَقَدْ رَتَّبْتُ لَكُمْ قَبْلَ هَذَا الْكِتَابِ، وَفِي أَثْنَائِهِ عِنْدَ مُعَاوَقَةِ الْقَوَاطِعِ عَنْهُ، كُتُبًا عَلَى طَرِيقَةِ الْمَشَائِينَ، وَلَخَّصْتُ فِيهَا قَوَاعِدَهُمْ، وَمِنْ جُمْلَتِهَا: الْمُخْتَصَرُ الْمَرْسُومُ بِهِ «التَّلْوِيحَاتُ اللَّوْحِيَّةُ وَالْعَرْشِيَّةُ»، مُشْتَمِلٌ عَلَى قَوَاعِدَ كَثِيرَةٍ، وَلَخَّصْتُ فِيهِ الْقَوَاعِدَ مَعَ صِغَرِ حَجْمِهِ، وَدُونَهُ «اللَّمْحَاتُ»، وَصَنَّفْتُ غَيْرَهُمَا، وَمِنْهَا مَا رَتَّبْتُهُ فِي أَيَّامِ الصِّبَا۔ وَهُذَا سِيَاقٌ آخَرُ وَطَرِيقٌ أَقْرَبُ مِنْ تِلْكَ الطَّرِيقَةِ، وَأَضْبَطُ وَأَنْظَمُ، وَأَقَلُّ اِعْتِبَارًا فِي التَّحْصِيلِ، وَلَمْ يَحْصُلْ لِي أَوَّلًا بِالْفِكْرِ، بَلْ كَانَ حُصُولُهُ بِأَمْرٍ آخَرَ، ثُمَّ طَلَبْتُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ، حَتَّى لَوْ قَطَعْتُ النَّظَرَ عَنِ الْحُجَّةِ مَثَلًا، مَا كَانَ يَشُكُّنِي فِيهِ مُشَكِّكٌ۔
اور میں نے تمہارے لیے اس کتاب ("حکمت الاشراق") سے پہلے، اور اس کے لکھنے کے دوران جب بھی راہ میں رکاوٹیں آئیں، "مشائین" (یعنی فلسفہء مشایء) کے طریقے پر کئی کتابیں ترتیب دی ہیں، اور ان میں ان (فلسفیوں) کے اصولوں کو سمیٹا (خلاصہ کیا) ہے۔ انہی میں سے ایک "التلویحات اللوحیۃ والعرشیۃ" نامی مختصر رسالہ بھی ہے جس میں بہت سے اصول شامل ہیں، اور میں نے اپنے چھوٹے حجم کے باوجود اس میں (بڑی بڑی) باتوں کو سما لیا ہے۔ اس کے علاوہ "اللمحات" (نامی کتاب) بھی ہے اور میں نے ان کے علاوہ اور بھی کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے کچھ میں نے اپنے بچپن کے دنوں میں ہی ترتیب دے دی تھیں اور (اب) یہ (کتاب "حکمت الاشراق") ایک بالکل مختلف اسلوب اور راستہ ہے، جو پہلے والے طریقے سے کہیں زیادہ قریب (فہم کے لیے)، زیادہ پختہ اور منظم ہے، اور سمجھنے میں بھی کم مشکل ہے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) یہ (علم) مجھے پہلے فکر و استدلال سے حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ کسی اور ہی ذریعے سے (یعنی کشف و الہام سے) ملا۔ پھر میں نے اس (کشفی علم) کے لیے (عقلی) دلائل و براہین تلاش کیے (تاکہ دوسروں کو سمجھا سکوں)۔ یہاں تک کہ اگر میں مثال کے طور پر دلیل و برہان کی طرف سے نظر ہی پھیر لوں (اور صرف کشف کو دیکھوں)، تب بھی کوئی مجھے اس (علم) کے بارے میں شک میں نہیں ڈال سکتا۔
٤. وَمَا ذَكَرْتُهُ مِنْ عِلْمِ الْأَنْوَارِ وَجَمِيعِ مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ وَغَيْرِهِ، يُسَاعِدُنِي عَلَيْهِ كُلُّ مَنْ سَلَكَ سَبِيلَ الـلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ ذَوْقُ إِمَامِ الْحِكْمَةِ وَرَئِيسِهَا أَفْلَاطُونَ صَاحِبِ الْإِيضِ وَالنُّورِ؛ وَكَذَا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ زَمَانِ وَالِدِ الْحُكَمَاءِ هِرْمِسَ إِلَى زَمَانِهِ مِنْ عُظَمَاءِ الْحُكَمَاءِ وَأَسَاطِينِ الْحِكْمَةِ، مِثْلَ أَنْبَاذُقْلِسَ وَفَيْثَاغُورَسَ وَغَيْرِهِمَا. وَكَلِمَاتُ الْأَوَّلِينَ مَرْمُوزَةٌ، وَمَا رُدَّ عَلَيْهِمْ وَإِنْ كَانَ مُتَوَجِّهًا عَلَى ظَاهِرِ أَقَاوِيلِهِمْ، لَمْ يَتَوَجَّهْ عَلَى مَقَاصِدِهِمْ، فَلَا رَدَّ عَلَى الرَّمْزِ۔ وَعَلَى هَذَا تَبْتَنِي قَاعِدَةُ الشَّرْقِ فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ الَّتِي كَانَتْ طَرِيقَةَ حُكَمَاءِ الْفُرْسِ، مِثْلَ جَامَاسِفَ وَفَرَشَاوَشْتَرَ وَبُزُرْجَمَهْرَ وَمَنْ قَبْلَهُمْ۔ وَهِيَ لَيْسَتْ قَاعِدَةَ كُفَّارِ الْمَجُوسِ وَالْحَادِ مَانِي وَمَا يُفْضِي إِلَى الشِّرْكِ بِالـلّٰهِ تَعَالَى وَتَنْزِيهِ. وَلَا تَظُنَّ أَنَّ الْحِكْمَةَ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ الْقَرِيبَةِ كَانَتْ لَا غَيْرُ، بَلِ الْعَالَمَ مَا خَلَا قَطُّ مِنَ الْحِكْمَةِ وَعَنْ شَخْصٍ قَائِمٍ بِهَا عِنْدَ الْحُجَجِ وَالْبَيِّنَاتِ، وَهُوَ خَلِيفَةُ الـلّٰهِ فِي أَرْضِهِ؛ وَهَكَذَا تَكُونُ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ. وَالِاخْتِلَافُ بَيْنَ مُتَقَدِّمِي الْحُكَمَاءِ وَمُتَأَخِّرِيهِمْ إِنَّمَا هُوَ فِي الْأَلْفَاظِ وَاخْتِلَافِ عَادَاتِهِمْ فِي التَّصْرِيحِ وَالتَّعْرِيضِ. وَالْكُلُّ قَائِلُونَ بِالْعَوَالِمِ الثَّلَاثَةِ مُتَّفِقُونَ عَلَى التَّوْحِيدِ لَا نِزَاعَ بَيْنَهُمْ فِي أُصُولِ الْمَسَائِلِ۔
وَ الْمَعْلِمُ الْأَوَّلُ؛ وَإِنْ كَانَ كَبِيرَ الْقَدْرِ عَظِيمَ الشَّأْنِ بَعِيدَ الْغَوْرِ تَامَّ النَّظَرِ، لَا يَجُوزُ الْمُبَالَغَةُ فِيهِ عَلَى وَجْهٍ يُفْضِي إِلَى الْازْدِرَاءِ بِأُسْتَاذَيْهِ. وَمِنْ جُمْلَتِهِمْ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ السِّفَارَةِ وَالشَّارِعِينَ، مِثْلَ أَغَاثَاذِيمُونَ وَهَرْمِسَ وَأَسْقَلِينُوسَ وَغَيْرِهِمْ۔
اور جو کچھ میں نے "علم الانوار" (نوروں کا علم) اور اس پر مبنی تمام باتوں کا ذکر کیا ہے، اس پر ہر وہ شخص میری تائید کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلا ہو۔ اور یہ (علم) درحقیقت "حکمت کے امام اور سربراہ" افلاطون کا ذوق و کشف ہے جو واضح بیان اور نور کے مالک تھے۔ اسی طرح ان سے پہلے، حکماء کے جد امجد "ہرمس" کے زمانے سے لے کر افلاطون کے دور تک جو عظیم حکماء اور فلسفے کے ستون گزرے ہیں جیسے انباذقلس، فیثاغورث اور دوسرے (سب کے یہاں یہی علم موجود تھا)۔ ان قدیم حکماء کے کلام میں رمز و اشارہ (استعارہ و کنایہ) پایا جاتا ہے۔(۹) لہٰذا جو اعتراض ان کی باتوں کے ظاہری الفاظ پر کیا جاتا ہے، اگرچہ وہ ظاہری سطح پر درست لگے، مگر ان کے حقیقی مقاصد پر وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ رمز و اشارے پر کوئی رد نہیں کیا جا سکتا اور اسی (بنیاد) پر مشرق کی اس اساس (فلسفہ) کی عمارت کھڑی ہے جو "نور و ظلمت" کے تصور پر ہے، جو قدیم ایرانی حکماء جیسے جاماسپ، فرشاوشتر، بزرجمہر اور ان سے پہلے کے لوگوں کا راستہ (مکتب فکر) تھا۔ اور یہ (نور و ظلمت کا فلسفہ) مجوسیوں کے کافرانہ عقائد، "مانی" کے الحادی نظریات، یا اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک اور ناپاک باتوں کی بنیاد نہیں ہے۔اور یہ گمان نہ کرو کہ یہ حکمت (علم الاشراق) صرف اس قریبی زمانے (یعنی اسلام کے دور) میں ہی پیدا ہوئی ہے۔ بلکہ دنیا کبھی بھی حکمت سے خالی نہیں رہی، اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ واضح دلائل و براہین کے ساتھ اس حکمت پر قائم رہنے والا کوئی شخص (یعنی "حکیم") موجود نہ ہو۔ اور وہی شخص زمین پر اللہ کا خلیفہ (نمائندہ) ہے۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ قدیم اور بعد کے حکماء میں اختلاف صرف الفاظ کے استعمال اور ان کے "صراحت" یا "کنایہ" کے طریقہ بیان کی عادتوں کا ہے۔ (ورنہ) سب کے سب "تین عوالم" (مثال، جبروت، ناسوت وغیرہ) کے قائل ہیں اور توحید پر متفق ہیں۔ ان کے درمیان مسائل کے بنیادی اصولوں میں کوئی نزاع نہیں ہے۔
اور (اسی سلسلے میں) "معلمِ اَوَّل" (ارسطو) کا معاملہ ہے اگرچہ وہ بہت بلند مقام، عظیم شان، گہرائیوں تک پہنچنے والے اور کامل بصیرت رکھنے والے ہیں پھر بھی ان کی تعریف میں اس حد تک مبالغہ روا نہیں رکھا جا سکتا جس سے ان کے اساتذہ (خُصُوصًا افلاطون) کی توہین لازم آئے اور (یونانی حکماء کی) انہی جماعتوں میں سے (کچھ) ایسے بھی تھے جو سفارت کاری اور قانون سازی کے میدان سے تعلق رکھتے تھے، جیسے اغاثاذیمون، ہرمس، اسقلینوس اور ان کے علاوہ دوسرے۔
٥. وَالْمَرَاتِبُ كَثِيرَةٌ وَهُمْ عَلَى طَبَقَاتٍ؛ وَهِيَ هَذِهِ؛ حَكِيمٌ إِلَهِيٌّ مُتَوَغِّلٌ فِي التَّأَلُّهِ عَدِيمُ الْبَحْثِ؛ حَكِيمٌ بَحَّاثٌ عَدِيمُ التَّأَلُّهِ؛ حَكِيمٌ إِلَهِيٌّ مُتَوَغِّلٌ فِي التَّأَلُّهِ وَالْبَحْثِ؛ حَكِيمٌ إِلَهِيٌّ مُتَوَغِّلٌ فِي التَّأَلُّهِ مُتوسِّطٌ فِي الْبَحْثِ أَوْ ضَعِيفُهُ؛ حَكِيمٌ مُتَوَغِّلٌ فِي الْبَحْثِ مُتوسِّطُ التَّأَلُّهِ [مُتَوسِّطٌ فِي التَّأَلُّهِ] أَوْ ضَعِيفُهُ؛ طَالِبٌ لِلتَّأَلُّهِ وَالْبَحْثِ؛ طَالِبٌ لِلتَّأَلُّهِ فَحَسَبُ؛ طَالِبٌ لِلْبَحْثِ فَحَسَبُ۔ فَإِنِ اتَّفَقَ فِي الْوَقْتِ مُتَوَغِّلٌ فِي التَّأَلُّهِ وَالْبَحْثِ، فَلَهُ الرِّئَاسَةُ وَهُوَ خَلِيفَةُ الـلّٰهِ، وَإِنْ لَمْ يَتَّفِقْ فَالْمُتَوَغِّلُ فِي التَّأَلُّهِ الْمُتوسِّطُ فِي الْبَحْثِ۔ وَإِنْ لَمْ يَتَّفِقْ فَالْحَكِيمُ الْمُتَوَغِّلُ فِي التَّأَلُّهِ عَدِيمُ الْبَحْثِ۔ وَلَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ مُتَوَغِّلٍ فِي التَّأَلُّهِ أَبَدًا۔ وَلَا رِئَاسَةَ فِي أَرْضِ الـلّٰهِ لِلْبَاحِثِ الْمُتَوَغِّلِ فِي الْبَحْثِ الَّذِي لَمْ يَتَوَغَّلْ فِي التَّأَلُّهِ، فَإِنَّ الْمُتَوَغِّلَ فِي التَّأَلُّهِ لَا يَخْلُو عَنْهُ الْعَالَمُ، وَهُوَ أَحَقُّ مِنَ الْبَاحِثِ فَحَسَبُ، إِذْ لَا بُدَّ لِلْخِلَافَةِ مِنَ التَّلَقِّي۔ وَلَسْتُ أَعْنِي بِهَذِهِ الرِّئَاسَةِ التَّغَلُّبَ، بَلْ قَدْ يَكُونُ الْإِمَامُ الْمُتَأَلِّهُ مُسْتَوْلِيًا ظَاهِرًا [ظَاهِرًا مَكْشُوفًا]، وَقَدْ يَكُونُ خَفِيًّا، وَهُوَ الَّذِي سَمَّاهُ الْكَافَّةُ «الْقُطْبَ»، فَلَهُ الرِّئَاسَةُ وَإِنْ كَانَ فِي غَايَةِ الْخُمُولِ. وَإِذَا كَانَتِ السِّيَاسَةُ بِيَدِهِ؛ فَيَكُونُ الزَّمَانُ نُورِيًّا؛ وَإِذَا خَلَا الزَّمَانُ عَنْ تَدْبِيرٍ إِلَهِيٍّ؛ كَانَتِ الظُّلُمَاتُ غَالِبَةً. وَأَجْوَدُ الطَّلَبَةِ طَالِبُ التَّأَلُّهِ وَالْبَحْثِ؛ ثُمَّ طَالِبُ التَّأَلُّهِ؛ ثُمَّ طَالِبُ الْبَحْثِ۔
اور (حکماء کے) مراتب بہت سے ہیں اور وہ مختلف طبقات پر مشتمل ہیں۔ اور یہ ہیں
١. وہ حکیم جو الہی ہو، (علمی) تَألُّہ (یعنی خداوندی تجلیات میں ڈوبا ہوا) میں گہرا ہو، مگر (عقلی) تحقیق سے خالی ہو۔
٢. وہ حکیم جو (عقلی) تحقیق میں پُرمُشقت ہو، مگر تَألُّہ سے خالی ہو۔
٣. وہ حکیم جو الہی ہو اور تَألُّہ اور (عقلی) تحقیق دونوں میں یکساں گہرا ہو۔
٤. وہ حکیم جو الہی ہو، تَألُّہ میں گہرا ہو، مگر (عقلی) تحقیق میں درمیانہ یا کمزور ہو۔
٥. وہ حکیم جو (عقلی) تحقیق میں گہرا ہو، مگر تَألُّہ میں درمیانہ یا کمزور ہو۔
٦. وہ طالبِ علم جو تَألُّہ اور (عقلی) تحقیق دونوں کا طالب ہو۔
٧. وہ طالبِ علم جو صرف تَألُّہ کا طالب ہو۔
٨. وہ طالبِ علم جو صرف (عقلی) تحقیق کا طالب ہو۔
پھر، اگر کسی زمانے میں کوئی ایسا شخص موجود ہو جو تَألُّہ اور تحقیق دونوں میں یکساں گہرا ہو، تو قیادت (امامت) اسی کی ہے اور وہی زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ اور اگر ایسا کوئی نہ ہو، تو پھر وہ شخص جو تَألُّہ میں گہرا مگر تحقیق میں درمیانہ ہو (قیادت کا حق دار ہے)۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو، تو پھر وہ حکیم جو تَألُّہ میں گہرا ہو مگر تحقیق سے یکسر خالی ہو (اولیٰ ہے)۔ زمین کبھی بھی تَألُّہ (خداوندی تجلیات میں گہرائی) میں ڈوبے ہوئے کسی شخص سے خالی نہیں ہوتی اور خدا کی زمین میں اس محقق کی کوئی قیادت (حقیقی امامت) نہیں ہے جو تحقیق میں تو گہرا ہو مگر تَألُّہ میں گہرائی نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ تَألُّہ میں گہرائی رکھنے والا شخص دنیا سے کبھی مفقود نہیں ہوتا، اور وہ صرف محقق (بغیر تَألُّہ کے) سے زیادہ مستحق ہے۔ اس لیے کہ خلافت (یعنی روحانی جانشینی) کے لیے (براہِ راست الہی) تَلَقّی (فیض یابی) ضروری ہے اور میری مراد اس "قیادت" سے حکومت و غلبہ حاصل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ متألہ امام (جو حقیقی قائد ہے) کبھی ظاہرًا قابض و غالب ہو سکتا ہے اور کبھی پوشیدہ۔ اور یہ وہی ہے جسے تمام (اہلِ معرفت) "قُطُب" کہتے ہیں۔ پس قیادت اسی کی ہے اگرچہ وہ انتہائی گمنامی کی حالت میں ہو اور جب سیاست (زمانے کی باگ ڈور) اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو زمانہ نورانی ہو جاتا ہے، اور جب زمانہ کسی الہی تدبیر (یعنی قطب کی ہدایت) سے خالی ہو جاتا ہے تو ظلمتیں غلبہ پا جاتی ہیں اور سب سے بہتر طالب علم وہ ہے جو تَألُّہ اور تحقیق دونوں کا طالب ہو، پھر وہ جو صرف تَألُّہ کا طالب ہو، پھر وہ جو صرف تحقیق کا طالب ہو۔
٦. وَكِتَابُنَا هَذَا لِطَالِبِي التَّأَلُّهِ وَالْبَحْثِ، وَلَيْسَ لِلْبَاحِثِ الَّذِي لَمْ يَتَأَلَّهْ أَوْ لَمْ يَطْلُبِ التَّأَلُّهُ فِيهِ نَصِيبٌ۔ وَلَا نُبَاحِثُ فِي هَذَا الْكِتَابِ وَرُمُوزِهِ إِلَّا مَعَ الْمُجْتَهِدِ الْمُتَأَلِّهِ أَوِ الطَّالِبِ لِلتَّأَلُّهِ، وَأَقَلُّ دَرَجَاتِ الْقَارِئِ لِهَذَا الْكِتَابِ أَنْ يَكُونَ قَدْ وَرَدَ عَلَيْهِ الْبَارِقُ الْإِلَهِيُّ وَصَارَ وُرُودُهُ مَلَكَةً لَهُ؛ وَغَيْرُهُ لَا يَنْتَفِعُ بِهِ أَصْلًا۔ فَمَنْ أَرَادَ الْبَحْثَ وَمَا فِيهِ [وَحْدَهُ] فَعَلَيْهِ بِطَرِيقَةِ الْمَشَّائِينَ، فَإِنَّهَا حَسَنَةٌ لِلْبَحْثِ وَحْدَهُ مُحْكَمَةٌ، وَلَيْسَ لَنَا مَعَهُ كَلَامٌ وَمُبَاحَثَةٌ فِي الْقَوَاعِدِ الْإِشْرَاقِيَّةِ؛ بَلِ الْإِشْرَاقِيُّونَ لَا يَنْتَظِمُ أَمْرُهُمْ دُونَ سَوَانِحَ نُورَانِيَّةٍ، فَإِنَّ مِنْ هَذِهِ الْقَوَاعِدِ مَا يَبْنِي فِي هَذِهِ الْأَنْوَارِ، حَتَّى إِنْ وَقَعَ لَهُمْ فِي الْأُصُولِ شَكٌّ يَزُولُ عَنْهُمْ بِالسَّلْمِ الْمَخْلَعَةِ. وَكَمَا أَنَّا شَاهَدْنَا الْمَحْسُوسَاتِ وَتَيَقَّنَّا بَعْضَ أَحْوَالِهَا ثُمَّ بَنَيْنَا عَلَيْهَا عُلُومًا صَحِيحَةً؛ كَالْهَيْئَةِ وَغَيْرِهَا، فَكَذَا نُشَاهِدُ مِنَ الرُّوحَانِيَّاتِ أَشْيَاءً ثُمَّ نَبْنِي عَلَيْهَا الْعُلُومَ الْإِلَهِيَّةَ۔ وَمَنْ لَيْسَ هَذَا سَبِيلُهُ فَلَيْسَ مِنَ الْحِكْمَةِ فِي شَيْءٍ، وَسَيُلْعَبُ بِهِ الشُّكُوكُ۔ وَالْآلَةُ الْمَشْهُورَةُ الْوَاقِيَةُ لِلْفِكْرِ جَعَلْنَاهَا هَهُنَا مُخْتَصَرَةً مُضْبُوطَةً بِضَوَابِطَ قَلِيلَةِ الْعَدَدِ كَثِيرَةِ الْفَوَائِدِ، وَهِيَ كَافِيَةٌ لِلذَّكِيِّ وَلِطَالِبِ الْإِشْرَاقِ۔ وَمَنْ أَرَادَ التَّفْصِيلَ فِي الْعِلْمِ الَّذِي هُوَ الْآلَةُ فَلْيَرْجِعْ إِلَى الْكُتُبِ الْمُفَصَّلَةِ۔

وَمَقْصُودُنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ يَنْحَصِرُ فِي قِسْمَيْنِ؛ 

اور ہماری یہ کتاب اُن ہی طلبہ کے لیے ہے جو تألُّہ (خداوندی تجلیات میں غرق ہونے) اور (عقلی) تحقیق دونوں کے خواہاں ہیں۔ اس (کتاب) میں اُس محقق کا کوئی حصہ نہیں ہے جس نے خود تألُّہ حاصل نہ کیا ہو یا تألُّہ کی طلب ہی نہ رکھتا ہو۔ اور ہم اس کتاب اور اس کے رمزوں پر صرف اُس مجتہد سے مباحثہ کرتے ہیں جو خود متألہ (خداوندی تجلی میں ڈوبا ہوا) ہو یا پھر تألُّہ کا طالب ہو۔ اس کتاب کے قاری کی کم از کم یہ شرط ہے کہ اُس پر الہی بارقہ (روحانی تجلی کا لمحہ) وارد ہو چکا ہو اور یہ واردات اُس کے لیے ایک مستقل ملکہ و صلاحیت بن گئی ہو۔ اس کے علاوہ کوئی شخص اس (کتاب) سے سرے سے فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتا۔ پس جس شخص کا مقصد صرف (عقلی) تحقیق ہی ہو، اُسے چاہیے کہ "مشائین" (یعنی فلسفہء مشاء) کے طریقے کی طرف رجوع کرے، کیونکہ وہ طریقہ صرف عقلی تحقیق کے لیے ہی عمدہ اور پختہ ہے۔ (مگر) ہمارا اُس (صرف محقق) کے ساتھ اِشراقی قواعد و اصول پر کوئی کلام اور مباحثہ نہیں ہے۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اِشراقیوں کا نظامِ فکر نورانی واردات و سوانح (الہامی خیالات و کشفیں) کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان (اشراقی) قواعد میں سے کچھ ایسی ہیں جو انہی (الہی) انوار ہی میں بنتی ہیں، یہاں تک کہ اگر اصولی مسائل میں انہیں کوئی شک لاحق ہو بھی جائے تو وہ "سُلَّمِ مَخْلَعَة" (ایک خاص روحانی کیفیت یا راستہ) کے ذریعے ان سے زائل ہو جاتا ہے۔اور جس طرح ہم نے محسوسات (مادی چیزیں) کو دیکھا، ان کے بعض احوال کا یقین حاصل کیا، پھر ان پر صحیح علوم (جیسے علم ہیئت وغیرہ) کی عمارت کھڑی کی، اسی طرح ہم روحانیات میں بھی بعض چیزوں کا مشاہدہ (کشف) کرتے ہیں پھر ان پر الہی علوم کی بنیاد رکھتے ہیں اور جس شخص کا یہ راستہ (یعنی کشفی مشاہدہ) نہیں ہے، وہ حکمت (اشراق) سے بالکل لا تعلق ہے، اور شکوک و شبہات اُس کے ساتھ کھیل کریں گے اور (اس کتاب میں) فکر کو محفوظ رکھنے والے مشہور آلات (یعنی منطق و فلسفہ) کو ہم نے یہاں مختصر مگر پُر ضابطہ، تھوڑی تعداد کے اصولوں پر مبنی مگر بہت زیادہ فوائد والا بنا دیا ہے۔ اور یہ ذہین شخص اور طالبِ اشراق کے لیے کافی ہے۔ اور جو شخص اس "علم" کی تفصیل چاہتا ہے جو (درحقیقت) ایک آلہ (ذریعہ) ہے، اسے تفصیلی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

اور ہمارا مقصد اس کتاب میں دو حصوں پر منحصر ہے؛ 
١. أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ میں قیامت کے دن (تمام) اولادِ آدمؑ کا سردار ہوں گا ، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی {المسلم/٥٩٤٠}۔
٢. یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ  وَ مَا خَلۡفَہُمۡ  وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ۝ وہ ان کے آگے  پیچھے  کے تمام امور سے واقف ہے وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے  جن  سے اللہ  خوش  ہو وہ خود ہیبت الٰہی سے لرزاں و ترساں ہیں [الآنبیاء ۲۸ القرآن]۔
٣. يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِم بُشْرَىٰكُمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ۝ جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے [الحدید ۱۲ القرآن]۔
٤. فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱلـلّٰهُ حَلَٰلًا طَيِّبًا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱلـلّٰهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۝ پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو [النحل ١١٤ القرآن]۔
 ٥. مُنازلات اصطلاحِ تصوف ہے، یعنی وہ احوال جو سالک پر اثنائے راہ سلوک میں گزرتے ہیں۔ یہ تین مُنازلہ مشہور ہیں۔ منازلۂ اَنَا وَاَنْتَ (میں اور تم)، مُنازلۂ اَنَا وَلَآ اَنْتَ (میں اور تم نہیں) اور مُنازلۂ اَنْتَ وَلَآ اَنَا (تم اور میں نہیں) تفصیل ان کی کُتُبِ تصوف میں مرقوم ہے۔ ۱۲
٦. وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ۝ [الانعام ٧٥ القرآن]۔
٧. وَھُوَ الْعَلِیْمٌ۔۱۲
٨. وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ۝ وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍ۝ بےشک انہوں نے اس کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں [التکویر ٢٣ تا ٢٤ القرآن]۔
٩. ہرمس، انباذقلس، فیثاغورس، سُقراط اور افلاطون اپنے کلام کو رمز سے بیان کرتے تھے تاکہ لوگ اس کو غور و فکر سے حل کریں یا مثل کُتُبِ آسمانی کے جن میں اکثر حقیقتیں تشبیہہ اور استعارہ کے طور پر بیان ہوتی ہیں تاکہ جمہور کے فہم سے قریب ہو خاص اُس کے باطن سے مُستفید ہوں اور عام ظاہر سے۔ اگر سچی باتیں صاف صاف کہتے تو عوام اُن کو قتل کردیتے اور سماج میں خلل واقع ہوجاتا اس لئے حکمتِ مرموزہ کو ایجاد کیا اور خواص کو بھیدوں سے باخبر کیا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ؛ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ الـلّٰهِ صَلَّى الـلّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے {بُخاري/۱۲۰}۔ أَنَّ عَبْدَ الـلّٰهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ؛ «مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لَا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ، إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةً» حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی قوم کے سامنے ایسی بات بیان نہیں کرتے جس (کے صحیح مفہوم) تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں مگر وہ ان میں سے بعض کے لیے فتنے (کا موجب) بن جاتی ہیں {مسلم/١٤}۔
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ

Comments

Popular posts from this blog

القِسْمُ الْأَوَّلُ، الْمَقَالَةُ الْأُولَى

 القِسْمُ الْأَوَّلُ فِي ضَوَابِطِ الْفِكْرِ وَفِيهِ ثَلَاثُ مَقَالَاتٍ الْمَقَالَةُ الْأُولَى فِي الْمَعَارِفِ وَالتَّعْرِيفِ وَفِيهَا ضَوَابِطُ سَبْعَةٌ۔ شیخ الرئیس ابوعلی حسین ابنِ سینا ۹۸۰ء تا ۱۰۳۷ء الضَّابِطُ الْأَوَّلُ [فِي الدَّلَالَةِ اللَّفْظِ عَلَى الْمَعْنَى] ٧. هُوَ أَنَّ اللَّفْظَ؛ دَلَالَتُهُ عَلَى الْمَعْنىٰ الَّذِي وُضِعَ بِإِزَائِهِ هِيَ دَلَالَةُ الْقَصْدِ۔ وَعَلَى جُزْءِ الْمَعْنَى دَلَالَةُ الْحِيطَةِ۔ وَعَلَى لَازِمِ الْمَعْنىٰ دَلَالَةُ التَّطَفُّلِ۔ وَلَا تَخْلُو دَلَالَةُ قَصْدٍ عَنْ مُتَابَعَةِ دَلَالَةِ تَطَفُّلٍ، إِذْ لَيْسَ فِي الْوُجُودِ مَا لَا لَازِمَ لَهُ۔ وَلَكِنَّهَا قَدْ تَخْلُو عَنْ دَلَالَةِ الْحِيطَةِ؛ إِذْ مِنَ الْأَشْيَاءِ مَا لَا جُزْءَ لَهُ، وَالْعَامُّ لَا يَدُلُّ عَلَى الْخَاصِّ بِخُصُوصِهِ. فَمَنْ قَالَ؛ «رَأَيْتُ حَيَوَانًا» فَلَهُ أَنْ يَقُولَ؛ «مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا»۔ وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَقُولَ؛ «مَا رَأَيْتُ جِسْمًا» وَ«مُتَحَرِّكًا بِالْإِرَادَةٍ» مَثَلًا۔ پہلا حصہ؛ فکر کے ضابطوں کے بارے میں، اور اس میں تین مقالے ہیں پہلا مقالہ...